المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
ذِكْرُ أَخْنَعِ الْأَسْمَاءِ عِنْدَ اللَّهِ باب: اللہ کے نزدیک ذلیل ترین نام کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7916
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، أخبرنا أبو الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، أنَّ النَّبِيَّ ﷺ قال: "إنَّ أخنعَ الأسماء عند الله يومَ القيامة رجلٌ تَسمَّى مَلِكَ الأملاكِ"؛ شاهانْ شاهْ. قال سفيان: إنَّ العَجَم إذا عظَّموا ملكهم يقولون: شاهانْ شاهْ، إنَّكَ مَلِكُ الملوك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه! لأنَّ جماعةً من أصحاب سفيان رَوَوه عنه بإسناده عن أبي هريرة يَبلُغ؛ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7723 - قد أخرجاهحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام «مَلِكُ الْاَمْلَاك» (شہنشاہ) رکھا ہو“۔ سفیان ثوری فرماتے ہیں: اہل عجم جب اپنے بادشاہ کی تعظیم کرتے ہیں تو اسے ”شاہان شاہ“ کہتے ہیں جس کا معنی ”بادشاہوں کا بادشاہ“ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. سفيان هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد (12/ 7329)، والبخاري (6206)، ومسلم (2143) (20)، وأبو داود (4961)، والترمذي (2837)، وابن حبان (5835) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (12/ 7329)، بخاری (6206)، مسلم (2143/ 20)، ابوداؤد (4961)، ترمذی (2837) اور ابن حبان (5835) نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث کو مستدرک میں لانا ان کی ذہنی فروگزاشت (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے شیخین کی صحیح میں موجود ہے۔
وأخرجه البخاري (6205) من طريق شعيب بن أبي حمزة، عن أبي الزناد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (6205) نے شعیب بن ابی حمزہ عن ابی الزناد (عبد اللہ بن ذکوان) کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (13/ 8176)، ومسلم (2143) (21) من طريق همام بن منبّه، عن أبي هريرة. وانظر ما بعده.
متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت امام احمد (13/ 8176) اور مسلم (2143/ 21) نے ہمام بن منبہ کے طریق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
قوله: "أخنع" يعني: أقبح.
نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ "أخنع" کا مطلب ہے: "أقبح" (سب سے زیادہ برا/قبیح یا ذلیل)۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد (12/ 7329)، والبخاري (6206)، ومسلم (2143) (20)، وأبو داود (4961)، والترمذي (2837)، وابن حبان (5835) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (12/ 7329)، بخاری (6206)، مسلم (2143/ 20)، ابوداؤد (4961)، ترمذی (2837) اور ابن حبان (5835) نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث کو مستدرک میں لانا ان کی ذہنی فروگزاشت (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے شیخین کی صحیح میں موجود ہے۔
وأخرجه البخاري (6205) من طريق شعيب بن أبي حمزة، عن أبي الزناد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (6205) نے شعیب بن ابی حمزہ عن ابی الزناد (عبد اللہ بن ذکوان) کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (13/ 8176)، ومسلم (2143) (21) من طريق همام بن منبّه، عن أبي هريرة. وانظر ما بعده.
متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت امام احمد (13/ 8176) اور مسلم (2143/ 21) نے ہمام بن منبہ کے طریق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
قوله: "أخنع" يعني: أقبح.
نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ "أخنع" کا مطلب ہے: "أقبح" (سب سے زیادہ برا/قبیح یا ذلیل)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7916 سے ماخوذ ہے۔