المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
بَعْثُ الْجَنَّةِ وَبَعْثُ النَّارِ باب: جنت اور جہنم کے بھیجے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 79
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن قَتَادة عن أنس قال: لما نزلت ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ إلى قوله: ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ على النبي ﷺ، وهو في مَسِيرٍ له … فذكر الحديث بنحوه (1). قد اتفقا جميعًا على إخراج حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد بعضَ هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 79 - وقد أخرجا حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيدحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ پر (ایک سفر کے دوران) یہ آیات ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ سے لے کر ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ تک نازل ہوئیں... پھر راوی نے اسی طرح حدیث ذکر کی۔
ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش عن ابی صالح عن ابی سعید کی روایت سے اس متن کا کچھ حصہ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح لكن من حديث عمران بن الحصين كما تقدَّم بيانه في الحديث السابق، شذَّ معمرٌ في روايته هذه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث بذاتِ خود صحیح ہے مگر حضرت عمران بن حصین کی روایت سے (جیسا کہ پہلے بیان ہوا)۔
فنی نکتہ / علّت: معمر سے اس کی سند کی روایت میں "شذوذ" واقع ہوا ہے (یعنی انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کر کے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے)۔
وأخرجه ابن حبان (7354) من طريق محمود بن غيلان، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان نے (7354) میں محمود بن غیلان کے واسطے سے عبدالرزاق سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8906) و (8907) من طريق عبد الرزاق.
اہم نکتہ: یہ روایت مصنف (امام حاکم) کے ہاں آگے چل کر نمبر (8906) اور (8907) پر عبدالرزاق کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث بذاتِ خود صحیح ہے مگر حضرت عمران بن حصین کی روایت سے (جیسا کہ پہلے بیان ہوا)۔
فنی نکتہ / علّت: معمر سے اس کی سند کی روایت میں "شذوذ" واقع ہوا ہے (یعنی انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کر کے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے)۔
وأخرجه ابن حبان (7354) من طريق محمود بن غيلان، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان نے (7354) میں محمود بن غیلان کے واسطے سے عبدالرزاق سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8906) و (8907) من طريق عبد الرزاق.
اہم نکتہ: یہ روایت مصنف (امام حاکم) کے ہاں آگے چل کر نمبر (8906) اور (8907) پر عبدالرزاق کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 79 سے ماخوذ ہے۔