المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
فَضْلُ تَأْدِيبِ الْأَوْلَادِ: باب: اولاد کی تربیت اور انہیں ادب سکھانے کی فضیلت
حدیث نمبر: 7874
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُبَاب، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لمَّا خَلَقَ اللهُ ﷿ آدَمَ ونفخَ فيه الروحَ عَطَسَ، فقال: الحمدُ الله، فحَمِدَ الله بإذن الله، فقال له ربُّه: يَرحمُك ربُّك يا آدمُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7681 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی، تو انہوں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، پس انہوں نے اللہ کے حکم سے اللہ کی حمد بیان کی، تب ان کے رب نے ان سے فرمایا: ”اے آدم! تمہارا رب تم پر رحم فرمائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث حسن، وهذا إسناد لا بأس برجاله، والحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذياب صدوق له أوهام، وقد سلف الحديث مطولًا برقم (215)، وسلف الكلام عليه هناك.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں؛ حارث بن عبد الرحمن بن ابی ذیاب "صدوق" ہے لیکن اسے وہم ہو جاتا ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ حدیث تفصیل کے ساتھ نمبر 215 پر گزر چکی ہے اور وہاں اس پر کلام کیا گیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں؛ حارث بن عبد الرحمن بن ابی ذیاب "صدوق" ہے لیکن اسے وہم ہو جاتا ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ حدیث تفصیل کے ساتھ نمبر 215 پر گزر چکی ہے اور وہاں اس پر کلام کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7874 سے ماخوذ ہے۔