المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
ذِكْرُ فَضِيلَةِ الِاسْتِغْفَارِ . باب: استغفار کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7871
حدثني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حَدَّثَنَا محمد بن الفَرَج الأزرق، حَدَّثَنَا حجَّاج بن محمد المِصِّيصي، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن أبي جُحَيفة، عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله ﷺ: "من أصابَ في الدنيا ذنبًا فعُوقِبَ به، فاللهُ أعدلُ من أن يُثنِّيَ عقوبتَه على عبدِه، وإن أذنبَ ذنبًا في الدنيا فستَرَ الله عليه، فاللهُ أكرمُ من أن يعودَ في شيء قد عَفَا عنه" (2). آخر كتاب التوبة والإنابة [كتاب الأدب] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7678 - سكت عنه الذهبي هنا ويأتي برقم 8165 وقال الذهبي هناك: على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے دنیا میں کوئی گناہ سرزد ہوا اور اسے (حد وغیرہ کی صورت میں) اس کی سزا مل گئی، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے پر سزا کو دوبارہ لوٹائے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ وہ ایسی چیز کے بارے میں بازپرس کرے جسے وہ معاف کر چکا ہو۔“
کتاب التوبہ والانابہ یہاں ختم ہوئی، اب کتاب الادب شروع ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن. وهو مكرر (3705).
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت پہلے نمبر 3705 پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت پہلے نمبر 3705 پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7871 سے ماخوذ ہے۔