حدیث نمبر: 7870
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حَدَّثَنَا علي بن الحسين بن الجُنَيد حَدَّثَنَا صفوان بن صالح، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حدثني الحَكَم بن مُصعَب، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن أبيه، عن جدِّه، عن النَّبِيِّ ﷺ قال: "مَن أكثرَ الاستغفار، جعلَ الله له من كلِّ همٍّ فَرَجًا، ومن كلِّ ضِيقٍ مَخْرجًا، ورَزَقَه من حيثُ لا يَحتسبُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7677 - الحكم بن مصعب فيه جهالة
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص استغفار کی کثرت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں جاتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7870
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، الحكم بن مصعب مجهول، تفرَّد بالرواية عنه الوليد بن مسلم، وذكره ابن حبان في "المجروحين" 1/ 249 وقال: ينفرد بالأشياء التي لا ينكر نفيَ صحتها من عُنى بهذا الشأن، لا يحلّ الاحتجاج به، ولا الرواية عنه إلّا على سبيل الاعتبار» [ترقيم الرساله 7870] [ترقيم الشركة 7776] [ترقيم العلميه 7677]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، الحكم بن مصعب مجهول، تفرَّد بالرواية عنه الوليد بن مسلم، وذكره ابن حبان في "المجروحين" 1/ 249 وقال: ينفرد بالأشياء التي لا ينكر نفيَ صحتها من عُنى بهذا الشأن، لا يحلّ الاحتجاج به، ولا الرواية عنه إلّا على سبيل الاعتبار. ومع ذلك ذكره في "الثقات"، وقال: يخطئ.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی حکم بن مصعب "مجہول" ہے، اس سے روایت کرنے میں ولید بن مسلم منفرد ہے۔ ابن حبان نے اسے "المجروحین" (1/ 249) میں ذکر کر کے کہا ہے کہ یہ ایسی اشیاء بیان کرنے میں منفرد ہے جن کی صحت کی نفی اہل فن (ماہرینِ حدیث) کے نزدیک منکر نہیں ہے؛ اس سے احتجاج (دلیل پکڑنا) جائز نہیں اور اس کی روایت صرف "اعتبار" (تائید) کے لیے لکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ابن حبان نے اسے "الثقات" میں بھی ذکر کیا ہے مگر وہاں بھی اسے "خطا کار" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد (4/ 2234)، وأبو داود (1518)، وابن ماجه (3819)، والنسائي (10217) من طرق عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد. إلّا رواية ابن ماجه فلم يُذكَر فيها علي بن عبد الله بن عباس.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/ 2234)، ابوداؤد (1518)، ابن ماجہ (3819) اور نسائی (10217) نے ولید بن مسلم کے مختلف طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، البتہ ابن ماجہ کی روایت میں علی بن عبد اللہ بن عباس کا ذکر موجود نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7870 سے ماخوذ ہے۔