المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
حِكَايَةُ وَرَعِ الْكِفْلِ . باب: کفل نامی شخص کے تقویٰ اور توبہ کا قصہ
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن سعد مولى طلحة، عن ابن عمر قال: لقد سمعتُ من فِي رسول الله ﷺ حديثًا لو لم أسمعه إلَّا مرةً أو مرتَين - حتَّى عَدَّ سبعًا - ولكنّي سمعتُه أكثرَ من ذلك؛ قال: "كان الكِفْلُ من بني إسرائيل لا يتوَرَّعُ عن ذنبٍ عَمِلَه، فأتَته امرأةٌ فأعطاها ستين دينارًا على أن يطأَها، فلما قعد منها مَقْعَدَ الرجلِ من امرأته، أُرعِدَتْ فبَكَتْ، فقال: ما يُبكيكِ؟ أكرَهتُكِ؟ قالت: لا، ولكن هذا عملٌ لم أعمله قطُّ، وإنما حَمَلَني عليه الحاجَةُ، قال: فتفعلين هذا ولم تفعليهِ قطُّ؟ قال: ثم نزل فقال: اذهبي والدنانيرُ لك. قال: ثم قال: واللهِ لا يَعصي الكِفلُ ربَّه أبدًا، فمات من ليلتِه وأصبَح مكتوبًا على بابه: قد غُفِرَ للكِفْلِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7651 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ایک حدیث سنی، اگر میں اسے ایک یا دو بار - یہاں تک کہ انہوں نے سات بار تک گنا - سنا ہوتا (تو شاید بیان نہ کرتا) لیکن میں نے اسے اس سے بھی کہیں زیادہ بار سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں «کفل» نامی ایک شخص تھا جو کسی بھی گناہ سے باز نہیں آتا تھا، ایک عورت اس کے پاس آئی تو اس نے اسے (بدکاری کے لیے) ساٹھ دینار دیے، جب وہ اس کے پاس اس طرح بیٹھا جیسے شوہر اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ہے، تو وہ عورت کانپنے لگی اور رونے لگی، اس نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا میں نے تم پر زبردستی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن یہ ایسا کام ہے جو میں نے کبھی نہیں کیا، مجھے صرف میری حاجت اور مجبوری نے اس پر آمادہ کیا ہے، اس نے کہا: تم نے کبھی ایسا نہیں کیا اور اب (مجبوری میں) یہ کر رہی ہو؟ راوی کہتے ہیں: پھر وہ اس سے دور ہو گیا اور کہنے لگا: تم چلی جاؤ اور یہ دینار بھی تمہارے ہی ہیں، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! کفل اب کبھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرے گا، پس اسی رات اس کا انتقال ہو گیا اور صبح اس کے دروازے پر لکھا ہوا پایا گیا کہ ”بے شک اللہ نے کفل کو معاف کر دیا ہے“۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "سعد مولٰی طلحہ" سے سوائے ابو جعفر الرازی کے کسی نے روایت نہیں کی۔ ابو حاتم کے مطابق یہ شخص صرف اسی ایک حدیث (حدیثِ کفل) سے پہچانا جاتا ہے۔ ابن حبان نے اسے "الثقات" میں ذکر کیا ہے جبکہ ابن کثیر نے اسے "انتہائی غریب" (غریب جداً) قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد (8/ 4747)، والترمذي (2496) من طريق أسباط بن محمد، عن الأعمش، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8/ 4747) اور ترمذی (2496) نے اسباط بن محمد عن الاعمش کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" کہا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (387) من طريق أبي بكر بن عياش عن الأعمش، عن عبد الله بن عبد الله الرازي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر. وهذا خطأ من أبي بكر بن عياش، فالحديث غير محفوظ عن سعيد بن جبير كما قال الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان (387) نے ابوبکر بن عیاش عن الاعمش عن عبد اللہ بن عبد اللہ الرازی عن سعید بن جبیر عن عبد اللہ بن عمر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند کی روایت میں ابوبکر بن عیاش سے غلطی ہوئی ہے، چنانچہ امام ترمذی کے بقول یہ حدیث سعید بن جبیر سے "غیر محفوظ" (ثابت نہیں) ہے۔