المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
خَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ . باب: بہترین گناہگار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہوں
حدیث نمبر: 7809
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا علي بن مَسْعَدة الباهلي، عن قَتَادة عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "كلُّ بني آدم خطَّاءٌ، وخيرُ الخطَّائينَ التَّوّابون" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7617 - علي بن مسعدة لينحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمام بنی آدم خطا کار ہیں، اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لتفرُّد علي بن مسعدة به، وهذا الرجل ليس بالقوي، ولا يقبل إلا فيما توبع عليه، وصرَّح ابن عدي بأنَّ أحاديثه ليست محفوظة، وأورد هذا الحديث منها، ونقل ابن قدامة المقدسي في العاشر من "المنتخب" (33) عن أبي عبد الله أحمد بن حنبل أنه قال الحديث: منكر.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ علی بن مسعدہ اس کی روایت میں منفرد ہے اور وہ قوی راوی نہیں ہے۔ اس کی روایت صرف تبھی قبول ہوتی ہے جب کوئی دوسرا اس کی تائید کرے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ابن عدی نے صراحت کی ہے کہ علی بن مسعدہ کی احادیث "محفوظ" نہیں ہوتیں اور یہ حدیث بھی انہی غیر محفوظ روایات میں سے ہے۔ ابن قدامہ مقدسی نے "المنتخب" (33) میں امام احمد بن حنبل کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو "منکر" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 20/ (13049) مطولًا، وابن ماجه (4251)، والترمذي (2499) من طريق زيد ابن الحباب، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: غريب لا نعرفه إلّا من حديث علي بن مسعدة عن قتادة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (جلد 20، حدیث نمبر 13049) میں تفصیل سے، ابن ماجہ نے (4251) اور امام ترمذی نے (2499) میں زید بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث "غریب" ہے اور ہم اسے صرف علی بن مسعدہ از قتادہ کی سند ہی سے جانتے ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ علی بن مسعدہ اس کی روایت میں منفرد ہے اور وہ قوی راوی نہیں ہے۔ اس کی روایت صرف تبھی قبول ہوتی ہے جب کوئی دوسرا اس کی تائید کرے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ابن عدی نے صراحت کی ہے کہ علی بن مسعدہ کی احادیث "محفوظ" نہیں ہوتیں اور یہ حدیث بھی انہی غیر محفوظ روایات میں سے ہے۔ ابن قدامہ مقدسی نے "المنتخب" (33) میں امام احمد بن حنبل کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو "منکر" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 20/ (13049) مطولًا، وابن ماجه (4251)، والترمذي (2499) من طريق زيد ابن الحباب، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: غريب لا نعرفه إلّا من حديث علي بن مسعدة عن قتادة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (جلد 20، حدیث نمبر 13049) میں تفصیل سے، ابن ماجہ نے (4251) اور امام ترمذی نے (2499) میں زید بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث "غریب" ہے اور ہم اسے صرف علی بن مسعدہ از قتادہ کی سند ہی سے جانتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7809 سے ماخوذ ہے۔