المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
اسْتَقِمْ وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ . باب: استقامت اختیار کرو اور اپنے اخلاق کو بہتر بناؤ
حدیث نمبر: 7808
حدثني محمد بن صالح بن هانئ [حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني وبشر بن سهل اللَّبّاد، قالا: حدثنا عبد الله بن صالح] (1) حدثنا حَرْملة بن عِمران التُّجِيبي، أنَّ أبا السِّمْط (2) سعيد بن أبي سعيد المَهْري حدّثه عن أبيه، عن عبد الله ابن عمرو: أنَّ معاذ بن جبل أراد سفرًا، فقال: يا رسولَ الله، أَوصِني، قال: "اعبُدِ اللهَ ولا تُشْرِكْ به شيئًا" قال: يا رسولَ الله، زِدْني، قال: "إذا أسأتَ فأحسِنْ" قال: يا رسولَ الله، زِدْني، قال: "استقِمْ ولتُحسِّنَ خُلُقَك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7616 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے وصیت فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مزید فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی برائی ہو جائے تو (اس کے بعد) کوئی نیکی کر لیا کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مزید فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”استقامت اختیار کرو اور اپنے اخلاق کو عمدہ بناؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين لم يرد في النسخ، وزدناه من "إتحاف المهرة" (12129)، وانظر الرواية السالفة برقم (180).
نوٹ / توضیح: بڑی بریکٹ کے درمیان والی عبارت اصل نسخوں میں موجود نہیں تھی، ہم نے اسے "اتحاف المہرہ" (12129) کے حوالے سے شامل کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اس سلسلے میں سابقہ روایت نمبر (180) ملاحظہ کریں۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: السوط، والمثبت من الرواية السالفة، ويقال في كنيته أيضًا: أبو السُّميط، وهي أشهر.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ غلطی سے "السوط" ہو گیا ہے، جبکہ درست وہی ہے جو پچھلی روایت میں ثابت ہے (یعنی السُّميط)۔ اس راوی کی کنیت "ابو السُّميط" بھی بتائی جاتی ہے اور یہی زیادہ مشہور ہے۔
(1) حسن لغيره، وسلف تخريجه والكلام عليه برقم (180).
درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ روایت "حسن لغیرہ" کے درجے پر ہے۔
حوالہ / مصدر: اس کی مکمل تخریج اور بحث پہلے حدیث نمبر (180) کے تحت گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: بڑی بریکٹ کے درمیان والی عبارت اصل نسخوں میں موجود نہیں تھی، ہم نے اسے "اتحاف المہرہ" (12129) کے حوالے سے شامل کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اس سلسلے میں سابقہ روایت نمبر (180) ملاحظہ کریں۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: السوط، والمثبت من الرواية السالفة، ويقال في كنيته أيضًا: أبو السُّميط، وهي أشهر.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ غلطی سے "السوط" ہو گیا ہے، جبکہ درست وہی ہے جو پچھلی روایت میں ثابت ہے (یعنی السُّميط)۔ اس راوی کی کنیت "ابو السُّميط" بھی بتائی جاتی ہے اور یہی زیادہ مشہور ہے۔
(1) حسن لغيره، وسلف تخريجه والكلام عليه برقم (180).
درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ روایت "حسن لغیرہ" کے درجے پر ہے۔
حوالہ / مصدر: اس کی مکمل تخریج اور بحث پہلے حدیث نمبر (180) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7808 سے ماخوذ ہے۔