المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
خَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ . باب: بہترین گناہگار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہوں
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزَّاهد، حدثنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد الرازي، حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني محمد ابن إسحاق، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن سعيد بن المسيّب، حدثني عمرو ابن العاص، أنَّه سمع رسولَ الله ﷺ يقول: "كلُّ ابنِ آدمَ يأتي يومَ القيامة وله ذنبٌ إِلَّا ما كان من يحيى بن زكريا" قال: ثم دلى رسول الله ﷺ بيده إلى الأرض فأخذ عُوَيدًا صغيرًا، ثم قال: "وذلك أنَّه لم يكُنْ له ما للرجالِ إلَّا مثلُ هذا العُودِ، وبذلك سمَّاه الله سيِّدًا وحَصُورًا ونبيًّا من الصالحين" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7618 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر ابنِ آدم قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا کوئی نہ کوئی گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کر کے ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھائی اور فرمایا: ”اور یہ اس لیے کہ ان کے پاس وہ (قوتِ مردمی) نہیں تھی جو مردوں کے پاس ہوتی ہے مگر صرف اس لکڑی کے برابر، اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ”سید، حصور (خواہشات سے رکا ہوا) اور صالحین میں سے ایک نبی“ قرار دیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ خبر "مضطرب الاسناد" (سند کے لحاظ سے سخت الجھی ہوئی) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس کے راویوں میں بذاتِ خود کوئی حرج نہیں، لیکن یحییٰ بن سعید اور پھر ان سے آگے سعید بن المسیب پر اس روایت کے مرفوع، موقوف، موصول اور مرسل ہونے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، جیسا کہ سابقہ روایت نمبر (3451) میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ سند میں موجود محمد بن عیسیٰ سے مراد "محمد بن عیسیٰ بن زیاد الدامغانی" ہیں، اور سلمہ بن الفضل سے مراد "سلمہ بن الفضل الابرش" ہیں۔