حدیث نمبر: 7759
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "يا أهلَ المدينة، لا تأكلوا لحمَ الأضاحيِّ فوقَ ثلاثةِ أيام"، فشكوا ذلك إلى النبيِّ ﷺ أن لهم عِيالًا وحَشَمًا وخَدَمًا، فقال: "كُلُوا وأَطْعِمُوا واحبِسُوا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7568 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہل مدینہ! تم قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ مت کھاؤ“، پھر لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے اس بات کی شکایت کی کہ ان کے اہل وعیال، حشم اور خادم (زیادہ) ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اب) تم خود بھی کھاؤ، دوسروں کو بھی کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کر لیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7759
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، رجاله ثقات ورواية يزيد بن هارون عن سعيد الجريري وإن كانت بعد اختلاطه، تابعه عليه عن سعيد من رواه قبل اختلاطه، وقد توبع سعيد أيضًا» [ترقيم الرساله 7759] [ترقيم الشركة 7667] [ترقيم العلميه 7568]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، رجاله ثقات ورواية يزيد بن هارون عن سعيد الجريري وإن كانت بعد اختلاطه، تابعه عليه عن سعيد من رواه قبل اختلاطه، وقد توبع سعيد أيضًا. أبو نضرة: هو المنذر ابن مالك بن قِطْعة.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یزید بن ہارون کی سعید بن ایاس جریری سے روایت ان کے اختلاط (یاداشت کی کمزوری) کے بعد کی ہے، لیکن سعید سے ان لوگوں نے بھی اسے روایت کیا ہے جنہوں نے اختلاط سے پہلے سنا تھا، نیز خود سعید کی متابعت بھی موجود ہے۔ ابو نضرہ سے مراد منذر بن مالک بن قطعہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 18/ (11811)، ومسلم (1973)، وابن حبان (5928) من طرق عن سعيد ابن إياس الجريري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (18/ 11811)، امام مسلم (1973) اور ابن حبان (5928) نے سعید بن ایاس جریری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11179) والنسائي (4502)، وابن حبان (5926) من طريق زينب بنت كعب، عن أبي سعيد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11179)، نسائی (4502) اور ابن حبان (5926) نے زینب بنت کعب کے طریق سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11543) من طريق أيوب السختياني، والنسائي (4508) من طريق عبد الله ابن عون، كلاهما عن محمد بن سيرين، عن أبي سعيد. ويغلب على ظننا أنَّ ابن سِيرِين لم يسمع أبا سعيد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے ایوب سختیانی کے طریق سے اور امام نسائی نے عبد اللہ بن عون کے طریق سے روایت کیا ہے، دونوں نے محمد بن سیرین کے واسطے سے حضرت ابو سعید سے نقل کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ محمد بن سیرین کا حضرت ابو سعید خدری سے سماع ثابت نہیں۔
فقد رواه يزيد بن إبراهيم التُّستري -وهو ثقة- عن محمد بن سِيرِين، عن أبي العلانية، عن أبي سعيد. أخرجه أحمد 45/ (27157)، وأبو العلانية وثّقه أبو داود والبزار.
فنی نکتہ / علّت: اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ ثقہ راوی یزید بن ابراہیم تستری نے اسے محمد بن سیرین، ابو العلانیہ اور پھر حضرت ابو سعید کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (45/ 27157) میں روایت کیا ہے۔ ابو العلانیہ کی توثیق امام ابو داود اور امام بزار نے کی ہے۔
وانظر ما بعده، وما سلف برقم (1402).
حوالہ / مصدر: اس کے بعد والی بحث اور سابقہ حدیث نمبر 1402 ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7759 سے ماخوذ ہے۔