المستدرك على الصحيحين
كتاب الأضاحي— قربانی کے متعلق روایات
لِتَحِدَّ الشَّفْرَةَ قَبْلَ إِضْجَاعِ الْأُضْحِيَّةِ . باب: قربانی کے جانور کو لٹانے سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کر لیا جائے
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا عُبيد الله (1) ابن موسى، عن إسرائيل، عن سماك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: ﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ﴾ [الأنعام: 121]، قال يقولون: ما ذُبِحَ فذُكِرَ اسمُ الله عليه فلا تأكلوه، وما لم يُذكَرِ اسمُ الله عليه فكُلوه، فقال الله ﷿: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [الأنعام: 121] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7564 - على شرط مسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ﴾ [سورة الأنعام: 121] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ وہ (مشرکین) کہتے تھے: جس (جانور) کو ذبح کیا جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے اسے مت کھاؤ، اور جس (مردار) پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأنعام: 121] ”اور اس میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں نام میں تحریف ہو کر "عبد اللہ" لکھا گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، سماك -وهو ابن حرب، وإن كان في روايته عن عكرمة اضطراب- متابع كما بيّناه عند مكرَّره السالف برقم (7282).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سماک بن حرب اگرچہ عکرمہ سے روایت کرنے میں اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن یہاں ان کی متابعت موجود ہے جیسا کہ ہم نے اس کے سابقہ مکرر (حدیث نمبر 7282) کے تحت واضح کیا ہے۔