حدیث نمبر: 7726
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي وأبو عمر الحَوْضي، قالا: حدثنا شُعبة، عن سَلَمة بن كُهيل قال: سمعتُ حُجَيَّة بن عَدِيّ يقول: سمعتُ عليًّا، وسأله رجلٌ عن البقرة، فقال: عن سبعةٍ، قال: وسأله عن القَرْن، قال: لا يضرُّك، قال: وسأله عن العَرَج (2)، قال: إذا بلغَ المَنسَكَ، أمرنا رسولُ الله ﷺ أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3). هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، ولم يحتجَّا بحُجيّة بن عديٍّ، وهو من كِبار أصحاب أمير المؤمنين عليٍّ ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7535 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

حجیۃ بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا، ان سے ایک شخص نے گائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سات افراد کی طرف سے ہے، سینگ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لنگڑے پن کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اگر وہ ذبح کی جگہ تک پہنچ جائے (یعنی وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک جا سکتا ہو)، اور ہمیں رسول اللہ ﷺ نے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لینے کا حکم دیا تھا۔
یہ تمام اسانید صحیح ہیں، اگرچہ شیخین نے حجیۃ بن عدی سے احتجاج نہیں کیا لیکن وہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے کبار اصحاب میں سے ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7726
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن كسابقيه» [ترقيم الرساله 7726] [ترقيم الشركة 7634] [ترقيم العلميه 7535]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ص) و (م): الأعرج.
نوٹ / توضیح: نسخہ 'ص' اور 'م' میں 'الاعرج' کا لفظ منقول ہے۔
(3) إسناده حسن كسابقيه. وسلف من طريق شعبة مختصرًا برقم (1738).
درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی روایات کی طرح 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ امام شعبہ کے طریق سے مختصراً حدیث نمبر (1738) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7726 سے ماخوذ ہے۔