حدیث نمبر: 7725
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن سَلَمة (4) بن كُهيل، عن حُجَيَّة بن عَدِي، قال: سأل رجلٌ عليًّا عن البقرة، قال: عن سبعة، فقال: مكسورةُ القَرْن؟ قال: لا بأس، قال: العَرْجاء؟ قال: إذا بَلَغَتِ المَنسَكَ، وقال: أمرَنا رسولُ الله ﷺ أن نَستشرِفَ العينَ والأُذنَ (1). وأما حديث شُعبة:
حافظ طلحہ بابر

حجیۃ بن عدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سات لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے، اس نے پوچھا: اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے پوچھا: اگر لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک پہنچ جائے، اور فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھنے کا حکم دیا تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7725
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن كسابقه» [ترقيم الرساله 7725] [ترقيم الشركة 7633]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) من قوله: "أما حديث الثوري" إلى هنا سقط من (ز) و (ب).
نوٹ / توضیح: عبارت "اما حدیث الثوری" سے یہاں تک کا حصہ نسخہ 'ز' اور 'ب' میں موجود نہیں ہے۔
(1) إسناده حسن كسابقه. الحسين بن حفص: هو ابن الفضل الهمداني.
درجۂ حدیث: اس کی سند بھی سابقہ روایت کی طرح 'حسن' ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حسین بن حفص سے مراد حسین بن فضل ہمدانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 2/ (32) و (734) و (1021)، وابن ماجه (3143)، وابن حبان (5920) من طريق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (2/32، 734، 1021)، ابن ماجہ (3143) اور ابن حبان (5920) نے سفیان ثوری کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7725 سے ماخوذ ہے۔