المستدرك على الصحيحين
كتاب الأضاحي— قربانی کے متعلق روایات
لَا بَأْسَ بِالْعَرْجَاءِ إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ . باب: لنگڑے جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں اگر وہ خود چل کر ذبح گاہ تک پہنچ جائے
حدیث نمبر: 7724
أخبرنا أبو بكر بن عتَّاب، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، أخبرنا وهب بن جَرير (1)، حدثنا أبي، عن أبي إسحاق، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن حُجَيَّة بن عَديّ: أنَّ رجلًا سأل عليًّا عن البقرة، فقال: عن سبعة، قال: القَرْن (2)؟ قال: لا يضرُّك، قال: العَرْجاءُ؟ قال: إذا بَلَغَتِ المَنْسَكَ، قال: وكان رسولُ الله ﷺ أمرَنا أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3). رواه سفيان الثَّوري وشُعبة عن سَلَمة. أما حديثُ الثَّوري:
حافظ طلحہ بابر
حجیۃ بن عدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ سات افراد کی طرف سے (کافی) ہے، اس نے پوچھا: اگر اس کا سینگ (ٹوٹا ہوا) ہو؟ انہوں نے فرمایا: اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا، اس نے پوچھا: اگر وہ لنگڑی ہو؟ انہوں نے فرمایا: اگر وہ خود چل کر ذبح کرنے کی جگہ تک پہنچ جائے (تو جائز ہے)، اور انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: جريج.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ 'ز' اور 'ب' میں یہ لفظ تحریف ہو کر 'جریج' ہو گیا ہے۔
(2) قوله: "قال القرن" سقط من (ز) و (ب).
نوٹ / توضیح: الفاظ "قال القرن" نسخہ 'ز' اور 'ب' سے ساقط ہیں۔
(3) إسناده حسن من أجل حجية بن عدي. وسلف من طريق محمد بن عبيد عن وهب بن جرير برقم (1739).
درجۂ حدیث: حجیہ بن عدی کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے محمد بن عبید عن وہب بن جریر کے طریق سے حدیث نمبر (1739) کے تحت گزر چکی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ 'ز' اور 'ب' میں یہ لفظ تحریف ہو کر 'جریج' ہو گیا ہے۔
(2) قوله: "قال القرن" سقط من (ز) و (ب).
نوٹ / توضیح: الفاظ "قال القرن" نسخہ 'ز' اور 'ب' سے ساقط ہیں۔
(3) إسناده حسن من أجل حجية بن عدي. وسلف من طريق محمد بن عبيد عن وهب بن جرير برقم (1739).
درجۂ حدیث: حجیہ بن عدی کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے محمد بن عبید عن وہب بن جریر کے طریق سے حدیث نمبر (1739) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7724 سے ماخوذ ہے۔