حدیث نمبر: 7709
أخبرنا عَبْدان بن يزيد الدَّقّاق همذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمةَ، عن أُمِّ سَلَمة قالت: إذا دخلَ عَشْرُ ذي الحِجَّة فلا تأخُذَنَّ مِن شَعرِك ولا من أظفارِك حتى تذبحَ (1) أُضحيَّتَك (2). هذا شاهدٌ صحيح لحديث مالك وإن كان موقوفًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7519 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب ذوالحجہ کا عشرہ داخل ہو جائے تو جب تک تم اپنی قربانی نہ کر لو اپنے بال اور ناخن ہرگز نہ کاٹنا۔
یہ امام مالک کی حدیث کے لیے ایک صحیح شاہد ہے اگرچہ یہ موقوف روایت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز): تذبحن.
نوٹ / توضیح: نسخہ 'ز' میں 'تذبحن' کے الفاظ منقول ہیں۔
(2) إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن: وهو القرشي العامري.
درجۂ حدیث: حارث بن عبدالرحمن (القرشی العامری) کی وجہ سے یہ سند 'جید' ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة (14993 - عوامة) عن وكيع، عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد. وليس فيه قولها «حتى تذبح أضحيتك» . . . . في باب: من كره أن يأخذ من شعره إذا أراد الحج
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (14993 طبع عوامہ) نے وکیع بن جراح عن ابن ابی ذئب کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں "حتیٰ تذبح اضحیتک" (یہاں تک کہ تم قربانی ذبح کر لو) کے الفاظ نہیں ہیں۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت اس باب میں ہے کہ جو شخص حج کا ارادہ کرے اس کے لیے بال کاٹنا ناپسندیدہ ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 23/ (557) من طريق جنادة بن سلم، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبي سلمة، به مرفوعًا. وجنادة فيه ضعف لكنه يُعتبر به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے 'المعجم الکبیر' (23/557) میں جنادہ بن سلم کے طریق سے محمد بن عمرو بن علقمہ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: جنادہ بن سلم میں ضعف پایا جاتا ہے مگر ان کی روایت متابعات و شواہد میں معتبر ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ 'ز' میں 'تذبحن' کے الفاظ منقول ہیں۔
(2) إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن: وهو القرشي العامري.
درجۂ حدیث: حارث بن عبدالرحمن (القرشی العامری) کی وجہ سے یہ سند 'جید' ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة (14993 - عوامة) عن وكيع، عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد. وليس فيه قولها «حتى تذبح أضحيتك» . . . . في باب: من كره أن يأخذ من شعره إذا أراد الحج
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (14993 طبع عوامہ) نے وکیع بن جراح عن ابن ابی ذئب کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں "حتیٰ تذبح اضحیتک" (یہاں تک کہ تم قربانی ذبح کر لو) کے الفاظ نہیں ہیں۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت اس باب میں ہے کہ جو شخص حج کا ارادہ کرے اس کے لیے بال کاٹنا ناپسندیدہ ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 23/ (557) من طريق جنادة بن سلم، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبي سلمة، به مرفوعًا. وجنادة فيه ضعف لكنه يُعتبر به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے 'المعجم الکبیر' (23/557) میں جنادہ بن سلم کے طریق سے محمد بن عمرو بن علقمہ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: جنادہ بن سلم میں ضعف پایا جاتا ہے مگر ان کی روایت متابعات و شواہد میں معتبر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7709 سے ماخوذ ہے۔