حدیث نمبر: 7710
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يزيد بن عبد ربِّه، حدثنا الوليد بن مسلم، قال: سألتُ محمد بن عَجْلان عن أخذ الشَّعر في الأيام العَشْر، فقال: حدثني نافعٌ: أنَّ ابنَ عمر مرَّ بامرأةٍ تأخذُ من شعر ابنها في أيام العَشْر، فقال: لو أخَّرتيهِ إلى يومِ النَّحر كان أحسنَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7520 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو عشرہ ذوالحجہ کے دنوں میں اپنے بیٹے کے بال کاٹ رہی تھی، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم اسے قربانی کے دن تک مؤخر کر دیتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7710
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي من أجل محمد بن عجلان» [ترقيم الرساله 7710] [ترقيم الشركة 7618] [ترقيم العلميه 7520]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل محمد بن عجلان.
درجۂ حدیث: محمد بن عجلان کی وجہ سے یہ سند 'قوی' ہے۔
وأخرج ابن أبي شيبة (14997 - عوامة) من طريق مجاهد عن ابن عمر قال: من أراد الحج فلا يأخذ من شعره شيئًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (14997 طبع عوامہ) نے مجاہد عن ابن عمر کے طریق سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: "جو حج کا ارادہ کرے وہ اپنے بالوں سے کچھ نہ لے۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7710 سے ماخوذ ہے۔