حدیث نمبر: 7694
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكيُّ بن براهيم، حدثنا السَّرِيُّ بن إسماعيل، عن أبي الضُّحى، عن أم ناجيَة قالت: دخلتُ على زينبَ امرأةِ عبد الله أُعوِّذُها من حُمْرة ظَهَرَتْ بوجهها، وهي معلَّقة بحِرْز، فإني لجالسةٌ دخل عبدُ الله، فلما نظر إلى الحِرْز أتى جِذعًا مُعارِضًا في البيت، فوضع عليه رِداءَه، ثم حَسَرَ عن ذِراعَيه، فأتاها فأخذ بالحِرْز فجَذَبها حتى كاد وجهُها أن يقعَ بالأرض فانقطع، ثم خرج من البيت، فقال: لقد أصبحَ آلُ عبدِ الله أغنياءَ عن الشَّرك، ثم خرج فرَمَى بها خلف الجِدار (1)، ثم قال: يا زينبُ، أعندي تُعلَّقين؟! إِنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ نَهَى عن الرُّقَى والتَّمائم والتِّوَلَة، فقالت أمُّ ناجية: يا أبا عبد الرحمن، أما الرُّقى والتمائم، فقد عرفنا، فما التِّوَلَة؟ قال: التِّوَلَة ما يُهيِّجُ النساء (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7504 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ام ناجیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تاکہ ان کے چہرے پر ظاہر ہونے والی سرخی کا دم کروں، وہ ایک تعویذ لٹکائے ہوئے تھیں، میں بیٹھی ہی تھی کہ عبداللہ گھر میں داخل ہوئے، جب ان کی نظر اس تعویذ پر پڑی تو وہ گھر میں موجود ایک لکڑی کے پاس گئے، اپنی چادر اس پر رکھی، اپنی آستینیں چڑھائیں اور اس تعویذ کو کھینچ کر توڑ دیا یہاں تک کہ زینب کا چہرہ زمین کی طرف جھک گیا، پھر وہ گھر سے نکلے اور فرمایا: عبداللہ کی آل شرک سے بے نیاز ہو گئی ہے، پھر انہوں نے اسے دیوار کے پیچھے پھینک دیا اور فرمایا: اے زینب! کیا میرے سامنے تم یہ لٹکاتی ہو؟! میں نے رسول اللہ ﷺ کو دم، تعویذ اور تولہ سے منع فرماتے سنا ہے، ام ناجیہ نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! دم اور تعویذ تو ہم جانتے ہیں، یہ تولہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تولہ وہ جادو یا چیز ہے جس کے ذریعے عورتیں (محبت پانے کے لیے) مردوں کو اکساتی ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7694
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًا،، السري بن إسماعيل ضعيف جدًا،، وأم ناجية لم نعرفها» [ترقيم الرساله 7694] [ترقيم الشركة 7602] [ترقيم العلميه 7504]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز): الحِرار، وهي جمع حَرَّة.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "الحرار" ہے جو کہ "حرہ" (سیاہ پتھریلی زمین) کی جمع ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًا، السري بن إسماعيل ضعيف جدًا، وأم ناجية لم نعرفها. ولم نقف على أحد أخرجه من هذا الطريق غير المصنف.
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سری بن اسماعیل "ضعیف جداً" ہیں اور ام ناجیہ نامی راویہ "مجہول" (نامعلوم) ہیں۔ مصنف کے علاوہ کسی اور نے اس طریق سے یہ روایت بیان نہیں کی۔
وانظر ما بعده، وما سيأتي برقم (8495).
حوالہ / مصدر: اس کے بعد والی بحث اور آگے آنے والی روایت رقم (8495) ملاحظہ فرمائیں۔
قولها: "من حُمرة" هي ورم من جنس الطواعين، قاله صاحب "القاموس".
نوٹ / توضیح: "حُمرہ" سے مراد طاعون کی قسم کا ایک ورم (سوجن) ہے، جیسا کہ صاحبِ "قاموس المحیط" نے صراحت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7694 سے ماخوذ ہے۔