المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ . باب: نہار منہ حجامہ کروانا زیادہ بہتر ہے
حدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، حدثنا عَطَّاف بن خالد عن نافع: أنَّ عبد الله بن عمر قال له يا نافعُ تَبيَّغ بي الدَّمُ، فأتني بحجام [ولا تجعله صبيًّا] (3) ولا شيخًا كبيرًا، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "الحِجامةُ على الرِّيق أمثلُ، وفيها شِفاءٌ وبَرَكة، وهي تزيد في العَقْل، وتزيد في الحِفْظ، وتزيد الحافظَ حفظًا، فمن كان مُحتجمًا على اسم الله، فليَحتجِمْ يومَ الخميس، واجتَنِبوا الحِجامة يومَ الجمعة، ويومَ السبت، ويومَ الأحد، واحتجِمُوا يومَ الاثنين، ويومَ الثلاثاء، فإنه اليومُ الذي صَرَفَ الله عن أيوبَ فيه البَلَاء، واجتَنِبوا الحِجامةَ يومَ الأربعاء، فإنَّه اليومَ الذي ابتلى الله أيوبَ فيه بالبلاء، وما يَبدُو جُذامٌ ولا بَرَصٌ إِلَّا في يوم الأربعاء -أو في ليلة الأربعاء-" (4).
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نافع سے فرمایا: میرے خون کا دباؤ بڑھ گیا ہے «تَبيَّغ بي الدَّمُ»، میرے لیے کوئی حجام لاؤ جو نہ بچہ ہو اور نہ بوڑھا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”نہار منہ حجامہ کروانا زیادہ بہتر ہے، اس میں شفا اور برکت ہے، یہ عقل اور قوتِ حافظہ میں اضافہ کرتا ہے اور حافظے والے کے حفظ کو مزید جلا بخشتا ہے، پس جو کوئی حجامہ کروانا چاہے وہ اللہ کا نام لے کر جمعرات کو کروائے، اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن حجامہ سے پرہیز کرو، اور پیر و منگل کو حجامہ کرواؤ کیونکہ یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوب علیہ السلام کی بلا دور فرمائی تھی، اور بدھ کے دن حجامہ سے بچو کیونکہ اسی دن اللہ نے ایوب علیہ السلام کو آزمائش میں مبتلا کیا تھا، اور کوڑھ یا برص کی بیماری بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اہم نکتہ: بریکٹ میں دی گئی عبارت دیگر مصادر سے لی گئی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو سکے۔
(4) ضعيف جدًا، عبد الله بن صالح -وهو أبو صالح كاتب الليث- المصري وعطاف بن خالد سيِّئا الحفظ، وبرَّأهما أبو حاتم الرازي من عُهدة هذا الحديث، فقال كما في "العلل" لابنه (2346): هو مما أُدخل على أبي صالح. قلنا: ذكر ابن حبان أنه كان له جار يكتب بخط يشبه خط أبي صالح، ويرميه في داره بين كتبه، فيظن أنه خطه فيحدِّث به.
درجۂ حدیث: شدید ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن صالح (کاتبِ لیث) اور عطاف بن خالد دونوں کا حافظہ انتہائی کمزور ہے۔ امام ابو حاتم نے ان کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حدیث ان کی اپنی نہیں بلکہ کسی نے ان کی کتابوں میں شامل کر دی تھی۔ امام ابن حبان کے مطابق ان کا ایک پڑوسی ان کے خط سے ملتا جلتا خط لکھ کر کتابوں میں کاغذ پھینک دیتا تھا، جسے وہ اپنا سمجھ کر روایت کر دیتے تھے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (5969)، والطبري في مسند ابن عباس من "تهذيب الآثار" 1/ 511، والإسماعيلي في "معجمه" (302)، والخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 11/ 223 من طرق عن عبد الله بن صالح بهذا الإسناد. وروايتهم مختصرة إلَّا البزار.
حوالہ / مصدر: اسے بزار، طبری، اسماعیلی اور خطیب بغدادی نے عبد اللہ بن صالح کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے، البتہ بزار کے علاوہ باقی سب کی روایات مختصر ہیں۔