المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
إِنَّ اللَّهَ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الدُّنْيَا . باب: بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا کی (آسائشوں) سے بچاتا ہے
حدیث نمبر: 7654
حدثنا علي بن عيسى الحيري، حدثنا جعفر بن محمد ابن التُّرك (1) ومحمد بن عمرو بن النَّضر الحَرَشي، قالا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إسماعيل ابن جعفر، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبيد، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "إنَّ الله تعالى لَيَحمِي عبدَه المؤمنَ الدُّنيا وهو يُحبُّه، كما تَحمُونَ مريضَكم الطعامَ والشرابَ تخافونَ عليه" (2). كذا قال: عن أبي سعيد، وفي حديث عُمارة بن غَزِيَّة: عن قَتَادة بن النُّمعان، والإسنادان عندي صحيحان، والله أعلم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا (کی آلودگیوں) سے اسی طرح بچاتا ہے جبکہ وہ اس سے محبت فرماتا ہے، جیسے تم اپنے مریض کو کھانے پینے سے بچاتے ہو (تاکہ اسے نقصان نہ پہنچے) جبکہ تم اس کے بارے میں ڈر رہے ہوتے ہو۔“
راوی نے اسے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ عمارہ بن غزیہ کی حدیث میں یہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور میرے نزدیک یہ دونوں اسناد صحیح ہیں، واللہ اعلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) المثبت من (م)، وفي (ز) البزل، وفي (ص): الهرول.
اہم نکتہ: متن میں لفظ کا اثبات نسخہ (م) سے کیا گیا ہے، جبکہ نسخہ (ز) میں "البزل" اور (ص) میں "الہرول" واقع ہوا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات في الجملة، لكن اختلف في تسمية صحابيه كما ذكرنا قريبًا عند الرواية (7652). جعفر بن محمد ابن الترك هو جعفر بن محمد بن الحسين ابن عبيد الله، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وإسماعيل بن جعفر: هو ابن أبي كثير، وعمرو ابن أبي عمرو: هو مولى المطَّلب.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی مجموعی طور پر ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں بھی صحابی کے نام میں اختلاف ہے جیسا کہ روایت (7652) کے تحت گزرا۔ راویوں کی پہچان: جعفر بن محمد بن الترک سے مراد "جعفر بن محمد بن الحسین بن عبید اللہ"، یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "النیسابوری"، اسماعیل بن جعفر سے مراد "ابن ابی کثیر" اور عمرو بن ابی عمرو سے مراد "مولیٰ المطلب" ہیں۔
ولم نقف عليه من رواية محمود بن لبيد عن أبي سعيد عند غير المصنف.
تفصیلِ روایت: ہمیں محمود بن لبید عن ابی سعید کے طریق سے یہ روایت مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی۔
اہم نکتہ: متن میں لفظ کا اثبات نسخہ (م) سے کیا گیا ہے، جبکہ نسخہ (ز) میں "البزل" اور (ص) میں "الہرول" واقع ہوا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات في الجملة، لكن اختلف في تسمية صحابيه كما ذكرنا قريبًا عند الرواية (7652). جعفر بن محمد ابن الترك هو جعفر بن محمد بن الحسين ابن عبيد الله، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وإسماعيل بن جعفر: هو ابن أبي كثير، وعمرو ابن أبي عمرو: هو مولى المطَّلب.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی مجموعی طور پر ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں بھی صحابی کے نام میں اختلاف ہے جیسا کہ روایت (7652) کے تحت گزرا۔ راویوں کی پہچان: جعفر بن محمد بن الترک سے مراد "جعفر بن محمد بن الحسین بن عبید اللہ"، یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "النیسابوری"، اسماعیل بن جعفر سے مراد "ابن ابی کثیر" اور عمرو بن ابی عمرو سے مراد "مولیٰ المطلب" ہیں۔
ولم نقف عليه من رواية محمود بن لبيد عن أبي سعيد عند غير المصنف.
تفصیلِ روایت: ہمیں محمود بن لبید عن ابی سعید کے طریق سے یہ روایت مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7654 سے ماخوذ ہے۔