حدیث نمبر: 7653
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا مُسلم بن خالد، حدثنا زيد بن أسلم، عن أبيه قال: مرضتُ في زمان عمر بن الخطّاب مرضًا شديدًا، فدعا لي عمرُ طبيبًا، فحَمَاني حتى كنتُ أمَصُّ النَّواةَ من شدّة الحِمْية (3). وقد فسَّره عمرو بن أبي عمرو مولى المُطَّلِب في روايته عن عاصم بن عمرو بن قَتَادة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7465 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا اسلم (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سخت بیمار ہو گیا تو انہوں نے میرے لیے ایک طبیب بلوایا، اس طبیب نے مجھے پرہیز کا اس قدر سختی سے پابند کیا کہ میں شدتِ پرہیز کی وجہ سے کھجور کی گٹھلی چوستا تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7653
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليِّ
تخریج حدیث «إسناده ليِّن من أجل مسلم بن خالد: وهو الزنجي» [ترقيم الرساله 7653] [ترقيم الشركة 7561] [ترقيم العلميه 7465]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ليِّن من أجل مسلم بن خالد: وهو الزنجي.
درجۂ حدیث: اس کی سند مسلم بن خالد (الزنجی) کی وجہ سے "لین" (کمزور) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7653 سے ماخوذ ہے۔