حدیث نمبر: 7650
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم الحنظلي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عثمان بن عبد الملك، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "عليكم بالإِثْمِدِ، فإنه يُنبِتُ الشَّعرَ ويَجلُو البَصرَ" (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7462 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اثمد (سرمہ) کا استعمال لازم پکڑو کیونکہ یہ بال اگاتا ہے اور بینائی کو جلا بخشتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7650
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن عبد الملك» [ترقيم الرساله 7650] [ترقيم الشركة 7558] [ترقيم العلميه 7462]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(5) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن عبد الملك. أبو قلابة: هو عبد الملك ابن محمد الرقاشي، وأبو عاصم هو الضحاك بن مخلد النبيل. وأخرجه ابن ماجه (3495) عن أبي سلمة يحيى بن خلف، عن أبي عاصم النبيل، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، البتہ یہ سند عثمان بن عبد الملک کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو قلابہ سے مراد "عبد الملک بن محمد الرقاشی" اور ابو عاصم سے مراد "الضحاک بن مخلد النبیل" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (3495) میں ابو سلمہ یحییٰ بن خلف کے طریق سے ابو عاصم النبیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث ابن عباس السالف برقم (7565)، وهو حديث قوي.
متابعات و شواہد: اس کی شاہد حضرت ابن عباس کی وہ حدیث ہے جو پیچھے نمبر (7565) پر گزری ہے اور وہ "قوی" حدیث ہے۔
وحديث جابر عند ابن ماجه (3496)، وسنده حسن في الشواهد والمتابعات.
متابعات و شواہد: حضرت جابر کی روایت ابن ماجہ (3496) میں ہے، جس کی سند شواہد و متابعات میں "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7650 سے ماخوذ ہے۔