المستدرك على الصحيحين
كتاب اللباس— لباس کے متعلق روایات
لَعَنَ النَّبِيُّ الْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لُبْسَةَ الرَّجُلِ ، وَالرَّجُلَ يَلْبَسُ لُبْسَةَ الْمَرْأَةِ باب: نبی کریم ﷺ نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو مردوں والا لباس پہنے اور اس مرد پر جو عورتوں والا لباس پہنے
حدیث نمبر: 7605
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت عن وهب مولى أبي أحمد، عن أم سلمة: أنَّ النبيَّ ﷺ الا الله دخل عليها وهي تختمِرُ، فقال: "لَيَّةً (1) لا لَيَّتَينِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7417 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ اوڑھنی (دوپٹہ) اوڑھ رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اسے) ایک ہی بار لپیٹو، دو بار نہ لپیٹو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وقع في النسخ الخطية: "أليّة" بهمزة الاستفهام، والمثبت من" التلخيص" ومصادر التخريج، وهو الجادّة، لأنه فعل أمر وليس استفهامًا.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "أليّة" (ہمزہ استفہام/سوالیہ کے ساتھ) لکھا ہے، جبکہ جو ہم نے ثابت کیا ہے (لیّہ) وہ "التلخیص" اور دیگر مصادر تخریج سے لیا گیا ہے، اور وہی درست طریقہ ہے کیونکہ یہ فعلِ امر (حکم) ہے نہ کہ سوال۔
(2) إسناده ليّن لجهالة وهب مولى أبي أحمد، فقد تفرد بالرواية عنه حبيب بن أبي ثابت، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
درجۂ حدیث: اس کی سند نرم (لَیِّن) ہے، وہب مولیٰ ابی احمد کی جہالت کی وجہ سے۔
فنی نکتہ / علّت: ان سے روایت کرنے میں حبیب بن ابی ثابت متفرد ہیں، اور ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26522) و (26538) و (26617)، وأبو داود (4115) من طرق عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [44/ (26522)، (26538)، (26617)] اور ابوداؤد (4115) نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قال السندي في حاشيته على "المسند": أي: اطوى طيّة واحدة لا ليتين، خوفًا من التشبه بعمائم الرجال.
نوٹ / توضیح: سندھی نے "المسند" پر اپنے حاشیے میں فرمایا ہے: "یعنی اسے (دوپٹے کو) ایک ہی تہہ میں لپیٹا جائے، دو پیچ (یا تہیں) نہ دی جائیں، تاکہ مردوں کے عماموں کے ساتھ مشابہت کا اندیشہ نہ رہے۔"
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "أليّة" (ہمزہ استفہام/سوالیہ کے ساتھ) لکھا ہے، جبکہ جو ہم نے ثابت کیا ہے (لیّہ) وہ "التلخیص" اور دیگر مصادر تخریج سے لیا گیا ہے، اور وہی درست طریقہ ہے کیونکہ یہ فعلِ امر (حکم) ہے نہ کہ سوال۔
(2) إسناده ليّن لجهالة وهب مولى أبي أحمد، فقد تفرد بالرواية عنه حبيب بن أبي ثابت، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
درجۂ حدیث: اس کی سند نرم (لَیِّن) ہے، وہب مولیٰ ابی احمد کی جہالت کی وجہ سے۔
فنی نکتہ / علّت: ان سے روایت کرنے میں حبیب بن ابی ثابت متفرد ہیں، اور ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26522) و (26538) و (26617)، وأبو داود (4115) من طرق عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [44/ (26522)، (26538)، (26617)] اور ابوداؤد (4115) نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قال السندي في حاشيته على "المسند": أي: اطوى طيّة واحدة لا ليتين، خوفًا من التشبه بعمائم الرجال.
نوٹ / توضیح: سندھی نے "المسند" پر اپنے حاشیے میں فرمایا ہے: "یعنی اسے (دوپٹے کو) ایک ہی تہہ میں لپیٹا جائے، دو پیچ (یا تہیں) نہ دی جائیں، تاکہ مردوں کے عماموں کے ساتھ مشابہت کا اندیشہ نہ رہے۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7605 سے ماخوذ ہے۔