المستدرك على الصحيحين
كتاب اللباس— لباس کے متعلق روایات
لَعَنَ النَّبِيُّ الْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لُبْسَةَ الرَّجُلِ ، وَالرَّجُلَ يَلْبَسُ لُبْسَةَ الْمَرْأَةِ باب: نبی کریم ﷺ نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو مردوں والا لباس پہنے اور اس مرد پر جو عورتوں والا لباس پہنے
حدیث نمبر: 7604
أخبرنا محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إبراهيم بن نافع عن الحسن بن مسلم، عن صَفيَّة بنتِ شَيْبة: أَنَّ عائشة كانت تقول: لمّا نزلت هذه الآية: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ﴾ [النور: 31]، أخذْنَ النِّسَاءُ أُذُرَهُنَّ فَشَقَقْنَها من قِبَل الحَوَاشِي، فَاحْتَمَرْن بها (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7416 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو عورتوں نے اپنے تہبند (نیچے کے کپڑے) لیے اور انہیں کناروں کی جانب سے پھاڑ کر ان کی اوڑھنیاں بنا لیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين المُلائي. وأخرجه البخاري (4759) عن أبي نعيم الفضل بن دكين بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ (ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین ملائی ہیں)۔
فنی نکتہ / علّت: اسے امام بخاری (4759) نے ابونعیم فضل بن دکین سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حاکم کا اسے مستدرک (یعنی جو بخاری و مسلم میں نہ ہو) میں لانا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وسلف برقم (3542).
حوالہ: یہ روایت پہلے نمبر (3542) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ (ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین ملائی ہیں)۔
فنی نکتہ / علّت: اسے امام بخاری (4759) نے ابونعیم فضل بن دکین سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حاکم کا اسے مستدرک (یعنی جو بخاری و مسلم میں نہ ہو) میں لانا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وسلف برقم (3542).
حوالہ: یہ روایت پہلے نمبر (3542) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7604 سے ماخوذ ہے۔