حدیث نمبر: 7545
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن هشام بن مَلَّاس النُّمَيريّ، حدّثنا مروان بن معاوية الفَزَاري. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدّثنا الحسن بن مُكرَم، حدّثنا يزيد بن هارون؛ قالا: حدّثنا بَهْز بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، عوراتُنا ما نأتي منها، وما نَذَرُ؟ قال: "احفَظ عورتَك إلَّا من زوجتِك، أو ما مَلَكَت يمينُك" قلت: أرأيتَ إنْ كان قومٌ بعضُهم فوق بعض؟ قال: "إن استطعتَ أن لا يراها أحدٌ، فلا يَرَيَنَّها" قلت: أرأيتَ إنْ كان أحدُنا خاليًا؟ قال: "فالله أحقُّ أن يُستحيَى منه" ووضع يدَه على فَرْجِه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7358 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری ستر پوشی کے متعلق کیا حکم ہے، ہم اس میں سے کیا چھپائیں اور کیا چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی کے یا اس کے جو تمہاری ملکیت میں ہو (لونڈی)۔“ میں نے عرض کیا: بتائیے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے (بھیڑ میں) ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ اسے کوئی نہ دیکھ سکے تو کوئی بھی اسے ہرگز نہ دیکھے۔“ میں نے عرض کیا: بتائیے اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“ اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7545
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 7545] [ترقيم الشركة 7454] [ترقيم العلميه 7358]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن. والد حكيم اسمه: معاوية بن حَيدة القُشيري.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حکیم کے والد کا نام "معاویہ بن حیدہ قشیری" ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1920)، والترمذيّ (2794) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وقال الترمذيّ: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابن ماجہ (1920) اور ترمذی (2794) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔ اور امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20034) و (20035) و (20040)، وأبو داود (4017)، وابن ماجه (1920)، والترمذيّ (2769) و (2794)، والنسائي (8923) من طرق عن بهز بن حكيم، به.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (33/ 20034، 20035، 20040)، ابوداؤد (4017)، ابن ماجہ (1920)، ترمذی (2769، 2794) اور نسائی (8923) نے بہز بن حکیم سے مختلف طرق کے ساتھ کی ہے۔
وعندهم: إن كان القوم بعضهم في بعض، قال في "عون المعبود" 11/ 39: أيّ: مختلطون فيما بينهم مجتمعون في موضع واحد، ولا يقومون من موضعهم، فلا نقدر على ستر العورة وعلى الحِجاب منهم على الوجه الأتم في بعض الأحيان لضيق الإزار أو انحلاله لبعض الضرورة.
تفصیلِ روایت: ان کے ہاں الفاظ یہ ہیں: "اگر لوگ ایک دوسرے میں گھسے ہوئے ہوں"۔ "عون المعبود" (11/ 39) میں اس کی وضاحت ہے کہ: یعنی وہ آپس میں گھل مل جائیں اور ایک ہی جگہ اکٹھے ہوں، اور اپنی جگہ سے نہ اٹھیں، تو ہم بعض اوقات تہبند تنگ ہونے یا کسی ضرورت کے تحت کھل جانے کی وجہ سے ان سے مکمل طور پر ستر پوشی اور پردہ کرنے پر قادر نہ رہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7545 سے ماخوذ ہے۔