حدیث نمبر: 7512
حدّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدّثنا محمد بن المغيرة السُّكريّ، حدّثنا القاسم بن الحَكَم العُرَنيّ، حدّثنا سليمان بن أبي سليمان، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: جاءتِ امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسولَ الله، أنا فلانةُ بنت فلان، قال: "قد عرفتُكِ، فما حاجَتُكِ؟ " قالت: حاجَتي أَنَّ ابن عمِّي فلانٌ العابدُ، قال رسول الله ﷺ: "قد عرفتُه" قالت: يَخطُبُنيّ، فأخبِرْني ما حقُّ الزَّوج على الزوجة، فإن كان شيءٌ أطيقُه تزوجتُه، وإن لم أُطِقْه لا أتزوَّجُ، قال: "من حقِّ الزَّوج على الزوجة أن لو سالَ دمًا وقَيحًا وصَديدًا فلَحسَتْه بلسانها، ما أدَّتْ حقَّه، ولو كان ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ الزوجة أن تسجُدَ لزوجها إذا دخل عليها، لِمَا فَضَّلَه الله تعالى عليها" قالت: والذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ ما بقيتُ في الدنيا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7324 - بل سليمان هو اليماني ضعفوه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں بن فلاں کی بیٹی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہچان لیا ہے، بتا تیری کیا حاجت ہے؟“ اس نے عرض کیا: میری حاجت یہ ہے کہ میرا چچا زاد فلاں بڑا عبادت گزار ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اسے بھی پہچان لیا۔“ اس نے کہا: وہ مجھے نکاح کا پیغام دے رہا ہے، پس آپ مجھے بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا حق ہوا جس کی میں طاقت رکھتی ہوں تو میں اس سے نکاح کر لوں گی، اور اگر مجھے طاقت نہ ہوئی تو نکاح نہیں کروں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیوی پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اگر اس کے جسم سے خون، پیپ اور کچ لہو بہہ رہا ہو اور بیوی اسے اپنی زبان سے چاٹ لے، تب بھی اس نے اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اور اگر کسی انسان کے لیے روا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اسے سجدہ کرے، اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے (شوہر کو) بیوی پر عطا کی ہے۔“ عورت نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں جب تک دنیا میں زندہ رہوں گی، کبھی نکاح نہیں کروں گی۔
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7512
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل سليمان بن أبي سليمان: وهو ابن داود اليماميّ، وهو ما رجَّحه الخطيب البغدادي في "موضح الأوهام" 1/ 119، ووهَّم من جعله اثنين كالبخاري» [ترقيم الرساله 7512] [ترقيم الشركة 7420] [ترقيم العلميه 7324]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن أبي سليمان: وهو ابن داود اليماميّ، وهو ما رجَّحه الخطيب البغدادي في "موضح الأوهام" 1/ 119، ووهَّم من جعله اثنين كالبخاري. وقد سلف عند المصنّف مكررًا بهذا الإسناد برقم (2803) مسمّى عنده سليمان بن داود اليمامي.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند شدید ضعیف ہے، فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ سلیمان بن ابی سلیمان ہیں جو کہ ابن داؤد یمامی ہیں، یہی بات خطیب بغدادی نے "موضح الاوہام" 1/ 119 میں راجح قرار دی ہے اور ان لوگوں کی تغلیط کی ہے جنہوں نے (بخاری کی طرح) انہیں دو الگ شخصیات سمجھا۔ مصنف کے ہاں یہ روایت اسی سند کے ساتھ نمبر (2803) پر پہلے گزر چکی ہے جہاں ان کا نام سلیمان بن داؤد یمامی لکھا گیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7512 سے ماخوذ ہے۔