حدیث نمبر: 7488
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْريّ، حدّثنا يعلى ومحمد ابنا عُبيد، حدّثنا أبَان بن إسحاق، عن الصَّبَّاح بن محمد (3) البَجَليّ، عن مُرّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الله قَسَمَ بينَكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينَكم أرزاقَكم، وإِنَّ الله يُعطي المالَ من يُحِبُّ ومن لا يُحبُّ، ولا يُعطي الإيمانَ إلَّا من يُحبُّ، فمن أعطاه الله الإيمانَ فقده أحبَّه، والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يُسلِمُ عبدٌ حتى يُسلِمَ قلبُه، ولا يؤمنُ عبدٌ حتى يَأمَنَ جارُه بَوائِقَه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7301 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اسی طرح تقسیم فرمائے ہیں جس طرح تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں، اور اللہ تعالیٰ مال اس کو بھی دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا، لیکن ایمان صرف اسی کو عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، پس جسے اللہ نے ایمان عطا کر دیا اس سے اس نے محبت کی؛ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! کوئی بندہ اس وقت تک (حقیقی معنوں میں) مسلمان نہیں ہوتا جب تک اس کا دل (اللہ کا) فرمانبردار نہ ہو جائے، اور کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک اس کا پڑوسی اس کی «بَوَائِق» (شر اور اذیتوں) سے محفوظ نہ ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7488
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا على ابن مسعود
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا على ابن مسعود، وهذا إسناد ضعيف من أجل الصباح بن محمد البجلي» [ترقيم الرساله 7488] [ترقيم الشركة 7397] [ترقيم العلميه 7301]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يحيى.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "یحییٰ" بن گیا ہے۔
(1) صحيح موقوفًا على ابن مسعود، وهذا إسناد ضعيف من أجل الصباح بن محمد البجلي.
درجۂ حدیث: یہ روایت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر "موقوفاً" صحیح ہے، البتہ یہ سند صباح بن محمد البجلی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد (6/ 3672) عن محمد بن عبيد وحده، بهذا الإسناد مطولًا.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6/ 3672) نے تنہا محمد بن عبید سے اسی سند کے ساتھ طویل متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف من طريق يعلى بن عبيد وحده برقم (3712).
حوالہ / مصدر: یہ روایت تنہا یعلیٰ بن عبید کے طریق سے نمبر (3712) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7488 سے ماخوذ ہے۔