المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ باب: جو شخص یقین کے ساتھ مؤذن کے کلمات دہرائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 746
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن الأشجِّ، عن علي بن خالد الدُّؤلي، عن النضر بن سفيان الدُّؤَلي أنه حدَّثه، أنه سمع أبا هريرة، يقول: كنَّا مع رسول الله ﷺ، فقام بلالٌ ينادي، فلما سَكَتَ قال رسول الله ﷺ: "مَن قال مثلَ هذا يقينًا، دخل الجنةَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 735 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ اذان دینے کے لیے کھڑے ہوئے، جب وہ خاموش ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے یقین کے ساتھ اسی طرح (کے کلمات) کہے، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل علي بن خالد والنضر بن سفيان.
وأخرجه أحمد 14 (8624)، والنسائي (1653)، وابن حبان (1667) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ سند علی بن خالد اور نضر بن سفیان کی وجہ سے 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 14/ (8624)، نسائی (1653) اور ابن حبان (1667) نے مختلف طرق سے عبد اللہ بن وہب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14 (8624)، والنسائي (1653)، وابن حبان (1667) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ سند علی بن خالد اور نضر بن سفیان کی وجہ سے 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 14/ (8624)، نسائی (1653) اور ابن حبان (1667) نے مختلف طرق سے عبد اللہ بن وہب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 746 سے ماخوذ ہے۔