حدیث نمبر: 7276
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النَّسائي (3) وعبد الله بن محمد بن ناجيَة، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشَّهيد، حدثنا أبي [عن أبيه] (4) عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله بن عمرو بن حَرَام، قال: أمر أبي بخَزيرة، فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إلى رسول الله ﷺ فإذا هو في منزله، فقال: "ما هذا يا جابرُ؟ ألحمٌ هذا؟ " قلتُ: لا يا رسول الله، ولكنها خَزيرة أمر بها أبي فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إليك، ثم رجعتُ إلى أبي فقال: هل رأيتَ رسول الله ﷺ؟ قلتُ: نعم، قال: فما قال لك؟ قلت: قال: "ألحمٌ هذا يا جابر؟ " قال أبي: عسى أن يكونَ رسولُ الله ﷺ اشتهَى اللحمَ، فقام إلى داجنٍ له فذبحَها وشواها، ثم أمرني بحملها إليه، فقال رسول الله ﷺ: "جَزَى الله الأنصارَ عنَّا خيرًا، ولا سيَّما عبدِ الله بن عمرو بن حَرَام وسعدِ بن عُبادة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7099 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد نے ”خزیرہ“ (گوشت اور آٹے سے تیار کردہ کھانا) تیار کرنے کا حکم دیا، میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے جابر! کیا یہ گوشت ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں یا رسول اللہ! بلکہ یہ خزیرہ ہے، پھر میں نے واپس آ کر والد کو بتایا تو انہوں نے کہا: شاید آپ ﷺ کا دل گوشت کھانے کو چاہ رہا ہے، چنانچہ انہوں نے گھریلو پالی ہوئی بکری ذبح کر کے اسے بھونا اور مجھے آپ ﷺ کی طرف لے جانے کا حکم دیا، (جب میں پہنچا تو) آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو بہترین جزا عطا فرمائے، بالخصوص عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7276
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 7276] [ترقيم الشركة 7194] [ترقيم العلميه 7099]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الشيباني.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر "الشیبانی" لکھا گیا ہے۔
(4) ما بين المعقوفين أثبتناه من مصادر التخريج.
اہم نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان موجود مواد ہم نے دیگر مصادرِ تخریج کی مدد سے درج کیا ہے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (8223) عن محمد بن عثمان، وابن حبان (7020) من طريق أحمد بن إبراهيم الدورقي، كلاهما عن إبراهيم بن حبيب بن الشهيد، عن أبيه حبيب، عن عمرو بن دينار، عن جابر. ورواية النسائي مختصرة بقصة الدعاء للأنصار.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (8223) نے محمد بن عثمان سے، اور ابن حبان (7020) نے احمد بن ابراہیم الدورقی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ابراہیم بن حبیب سے، وہ اپنے والد حبیب سے، وہ عمرو بن دینار سے اور وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ نسائی کی روایت میں صرف انصار کے لیے دعا کا قصہ مختصراً مذکور ہے۔
وانظر ما سلف برقم (7272).
حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے سابقہ روایت رقم (7272) ملاحظہ فرمائیں۔
الخَزيرة: هي لحم يقطع صغارًا، ويصب عليه ماء كثير، فإذا نضج وضع عليه الدقيق.
اہم نکتہ: "الخزیرہ" وہ پکوان ہے جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے کر کے زیادہ پانی میں ابالا جائے اور پھر آٹا ڈال کر پکایا جائے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7276 سے ماخوذ ہے۔