حدیث نمبر: 7273
ما حدَّثَنيهِ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون و محمد بن غالب بن حرب، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأسود بن قيس، عن نُبيح العَنَزي، عن جابر بن عبد الله قال: لما قُتل أبي ترك عليَّ دينًا، فذكر الحديثَ بطوله، وقال فيه: قلتُ لامرأتي: إنَّ رسول الله ﷺ يَجيئُنا اليومَ نصفَ النهار، فلا تؤذي رسولَ الله ﷺ ولا تُكلِّميه، قال: فدخل وفرشتُ له فراشًا ووسادة، فوضع رأسَه ونامَ (2)، فقلتُ لمولًى لي: اذبَحْ هذه العَنَاق - وهي داجنٌ سمينة - والوَحَا والعَجَلَ، افرُغْ قبل أن يستيقظَ رسولُ الله ﷺ وأنا معك. فلم نَزَلْ فيها حتى فَرَغْنا منها وهو نائم، فقلتُ له: إنَّ رسول الله ﷺ إذا استيقظ يدعو بالطَّهور، وإني أخافُ إذا فَرَغَ أن يقومَ، فلا يَفرُغَنَّ من وُضوئه حتى تضع العَنَاقَ بين يديه. فلما قام قال: "يا جابرُ، ائتني بطَهور" فلم يَفرُغ من طُهوره حتى وضعتُ العَنَاقَ بين يديه، فنظر إليَّ فقال: "كأنَّك علمتَ حُبَّنا اللحمَ، ادعُ لي أبا بكر"، ثم دعا حواريِّيهِ الذينَ معه فدخَلُوا، فضربَ رسولُ الله ﷺ بيدِه، وقال: "باسمِ الله، كُلُوا" فأكلوا حتى شَبِعُوا، وفَضَلَ منها لحمٌ كثيرٌ، وذكر باقي الحديث (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7096 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب میرے والد (غزوہ احد میں) شہید ہوئے تو انہوں نے مجھ پر قرض چھوڑا، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی جس میں یہ ہے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے کہا:) میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: رسول اللہ ﷺ آج دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائیں گے، خبردار! رسول اللہ ﷺ کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا اور نہ ہی (ان کی مصروفیت یا آرام کے دوران) ان سے بات کرنا، راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کے لیے بستر اور تکیہ بچھا دیا، آپ ﷺ نے اپنا سرِ مبارک رکھا اور آرام فرمایا، میں نے اپنے ایک غلام سے کہا: اس میمنے (بکری کے بچے) کو ذبح کرو جو کہ گھر کا پلا ہوا اور خوب موٹا تازہ ہے، اور جلدی کرو، اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ بیدار ہوں کام سے فارغ ہو جاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ ہوں، چنانچہ ہم اس کام میں لگے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے نیند سے بیدار ہونے سے پہلے ہم فارغ ہو گئے، میں نے غلام سے کہا: رسول اللہ ﷺ جب بیدار ہوں گے تو وضو کا پانی طلب فرمائیں گے، اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ وضو سے فارغ ہو کر کہیں تشریف نہ لے جائیں، لہٰذا ان کے وضو سے فارغ ہونے سے پہلے ہی یہ گوشت ان کے سامنے رکھ دینا، جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اے جابر! میرے پاس وضو کا پانی لاؤ“، ابھی آپ ﷺ وضو سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ میں نے وہ گوشت آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دیا، آپ ﷺ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت سے ہماری رغبت اور محبت کا علم ہو گیا ہے، میرے پاس ابوبکر کو بلا لاؤ“، پھر آپ ﷺ نے اپنے ان ساتھیوں (حواریین) کو بھی بلایا جو آپ ﷺ کے ہمراہ تھے، وہ سب داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور فرمایا: ”اللہ کے نام سے (بسم اللہ کہہ کر) کھاؤ“، پس سب نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور اس میں سے کافی گوشت بچ بھی گیا، پھر راوی نے بقیہ حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7273
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.» [ترقيم الرساله 7273] [ترقيم الشركة 7191] [ترقيم العلميه 7096]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ: فرفع رأسه وقام، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، ومصدري التخريج.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "فرفع رأسہ وقام" کے الفاظ ہیں، جبکہ ہم نے "تلخیص الذہبی" اور دیگر مصادرِ تخریج کے مطابق درست الفاظ درج کیے ہیں۔
(1) إسناده صحيح. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو عوانہ سے مراد "الوضاح بن عبد اللہ الیشکری" ہیں۔
وأخرجه بتمامه أحمد 23/ (15281) عن عفّان بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (23 / 15281) میں مکمل طور پر عفان بن مسلم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7273 سے ماخوذ ہے۔