حدیث نمبر: 7260
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، قال: سمعتُ عبد الله بن سَلِمة (2)، قال: دخلتُ على علي بن أبي طالب أنا ورجلانِ، رجلٌ منا ورجلٌ من بني أسد - أحسَبُ - فبعثهما وجهًا، فقال: إنكما عِلْجانِ فعالِجا عن دينكما، ثم دخل المَخرَجَ ثم خرج، فأخذ حَفْنةً من ماء فتمسَّحَ بها، ثم جاء فقرأ القرآنَ، فرآنا أنكرنا ذلك، فقال عليٌّ: كان رسولُ الله ﷺ يأتي الخلاءَ فيقضي الحاجةَ، ثم يخرجُ فيأكلُ معنا الخبزَ واللحمَ ويقرأُ القرآنَ، ولا يحجبُه - وربما قال: ولا يحجُزُه - عن قراءة القرآن شيءٌ سوى الجنابةِ، أو إلَّا الجنابةَ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7083 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ میں اور دو مزید آدمی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے ان دونوں کو کسی مہم پر روانہ کیا اور فرمایا: تم دونوں مضبوط آدمی ہو پس اپنے دین کے معاملے میں خوب محنت کرو، پھر آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب وہاں سے باہر آئے تو چلو میں تھوڑا سا پانی لے کر اس سے (ہاتھ اور چہرہ) پونچھا، پھر آپ قرآن پڑھنے لگے، آپ نے محسوس کیا کہ ہم اس بات پر حیران ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بیت الخلا تشریف لے جاتے اور اپنی ضرورت پوری کرتے، پھر وہاں سے باہر تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت تناول فرماتے اور قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے، اور جنابت (ناپاکی) کے سوا کوئی چیز آپ ﷺ کو قرآن پڑھنے سے نہیں روکتی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7260
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن سلمة كما سلف بيانه برقم (548).» [ترقيم الرساله 7260] [ترقيم الشركة 7178] [ترقيم العلميه 7083]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وقع في نسخنا الخطية: عبد الله بن أبي سلمة، وهو خطأ.
اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں "عبد اللہ بن ابی سلمہ" لکھا ہوا ہے، جو کہ غلط ہے۔
(3) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن سلمة كما سلف بيانه برقم (548).
درجۂ حدیث: متابعات اور شواہد کی بنیاد پر یہ سند "حسن" ہے؛
فنی نکتہ / علّت: اس کا حسن ہونا عبد اللہ بن سلمہ نامی راوی کی وجہ سے ہے، جیسا کہ رقم (548) کے تحت اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 2 / (840).
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 2/ (840) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7260 سے ماخوذ ہے۔