المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
الْوُضُوءُ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ بَرَكَةٌ باب: کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا برکت کا باعث ہے
حدیث نمبر: 7259
حدثنا أبو النَّضر الفقيه (3)، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا مالك بن إسماعيل، حدثنا قيس بن الربيع، حدثنا أبو هشام الرُّمَّاني، عن زاذان، عن سلمان، قال: قرأتُ في التوراة: الوضوءُ قبل الطعام بركةُ الطعام، فذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ فقال: "الوضوءُ قبلَ الطعام وبعدَ الطعام بَرَكةُ الطعام" (1). تفرّد به قيس بن الربيع عن أبي هاشم، وأفراده على علوِّ محلِّه أكثرُ من أن يمكنَ تركُها في هذا الكتاب.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے سے پہلے وضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا) کھانے میں برکت کا باعث ہے، میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد وضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا) کھانے کی برکت ہے۔“ اس روایت میں قیس بن ربیع ابو ہاشم سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور ان کا علمی مقام و مرتبہ اتنا بلند ہے کہ ان کی منفرد روایات کو اس کتاب میں شامل کرنا ضروری ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) قوله: "حدثنا أبو النَّضر الفقيه" سقط من (ز).
اہم نکتہ: عبارت "حدثنا أبو النضر الفقیہ" نسخہ (ز) سے ساقط (حذف) ہوگئی ہے۔
(1) ضعيف من أجل تفرد قيس بن الربيع به، وقد سلف الكلام عليه برقم (6691).
درجۂ حدیث: قیس بن الربیع کے اس روایت میں منفرد ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف ہے؛
فنی نکتہ / علّت: اس راوی پر تفصیلی کلام پہلے رقم (6691) کے تحت گزر چکا ہے۔
اہم نکتہ: عبارت "حدثنا أبو النضر الفقیہ" نسخہ (ز) سے ساقط (حذف) ہوگئی ہے۔
(1) ضعيف من أجل تفرد قيس بن الربيع به، وقد سلف الكلام عليه برقم (6691).
درجۂ حدیث: قیس بن الربیع کے اس روایت میں منفرد ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف ہے؛
فنی نکتہ / علّت: اس راوی پر تفصیلی کلام پہلے رقم (6691) کے تحت گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7259 سے ماخوذ ہے۔