حدیث نمبر: 7186
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ﵀ ببغداد، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث وجعفر بن محمد بن شاكر، قالا: حدثنا عفّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم، عن أبي وائل: أنَّ ناسًا سألوا أسامةَ بنَ زيد: أنْ كلِّمْ لنا هذا الرجلَ - يعني عثمان بن عفّان -! قال: قد كلَّمناه ما دون أن نفتحَ بابًا أن لا نكونَ أولَ من فتحه، ما أقول: أمراؤُكم خِياركم، بعد شيءٍ سمعتُه من رسول الله ﷺ؛ سمعت رسول الله ﷺ يقول: "يُؤتَى بالوالي الذي كان يُطاع في معصية الله ﷿، فيُؤْمَرُ به إلى النار، فيُقذَفُ فيها فتندَلِقُ به أقتابُه - يعني أمعاءَه فيستديرُ فيها كما يستديرُ الحِمارُ في الرَّحى، فيأتي عليه أهلُ طاعته من الناس فيقولون له أيْ فُلُ، أين ما كنتَ تأمرنا؟! فيقول: كنتُ آمرُكم بأمرٍ وأخالفُكم إلى غيرِه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7010 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان سے عرض کیا کہ آپ اس شخص (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ) سے ہمارے لیے بات کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان سے پوشیدہ طور پر وہ سب باتیں کر لی ہیں جو مجھے کرنی تھیں اور میں ایسا دروازہ نہیں کھولنا چاہتا جس کا کھولنے والا میں پہلا شخص بنوں، اور میں کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ تمہارے امراء تم میں سب سے بہتر ہیں، اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؛ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”قیامت کے دن اس والی (حکمران) کو لایا جائے گا جس کی اللہ عزوجل کی نافرمانی میں اطاعت کی جاتی تھی، پھر اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا اور اسے اس میں ڈال دیا جائے گا، تو اس کی آنتیں نکل آئیں گی، وہ ان میں اس طرح چکر لگائے گا جیسے گدھا چکی میں چکر لگاتا ہے، پھر اس کے وہ لوگ آئیں گے جو اس کی اطاعت کیا کرتے تھے اور اس سے کہیں گے: اے فلاں! کیا تو ہمیں (بھلائی کا) حکم نہیں دیتا تھا؟! وہ کہے گا: میں تمہیں ایک بات کا حکم دیتا تھا اور خود اس کے خلاف دوسرے کام کرتا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7186
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 7186] [ترقيم الشركة 7105] [ترقيم العلميه 7010]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النجود - فهو صدوق حسن الحديث، وقد توبع - عفّان: هو ابن مسلم الصَّفّار، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة الأسدي.
درجۂ حدیث: یہ 'صحیح' حدیث ہے اور اس کی سند 'حسن' ہے کیونکہ عاصم بن ابی النجود 'صدوق' ہیں اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں 'عفان' سے مراد عفان بن مسلم الصفار ہیں اور 'ابو وائل' سے مراد (جلیل القدر تابعی) شقیق بن سلمہ الاسدی ہیں۔
وأخرجه أحمد 36 (21794) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/21794) نے عبدالصمد بن عبدالوارث عن حماد بن سلمہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21784) و (21800) و (21819)، والبخاري (3267) و (7098)، ومسلم (2989) من طريق الأعمش، عن أبي وائل، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه. وأخرجه أحمد بإثر الرواية (21819) من طريق منصور بن المعتمر، عن أبي وائل، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (21784)، (21800) اور (21819) میں، امام بخاری نے (3267) اور (7098) میں، اور امام مسلم نے (2989) میں الاعمش (سلیمان بن مہران) عن ابی وائل (شقیق بن سلمہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: امام مسلم کی تخریج کے باوجود امام حاکم کا اس حدیث پر استدراک کرنا ان کی 'ذہول' (بھول) ہے۔
تفصیلِ روایت: امام احمد نے روایت نمبر (21819) کے بعد اسے منصور بن المعتمر عن ابی وائل کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7186 سے ماخوذ ہے۔