حدیث نمبر: 7185
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مَخْرَمة بن بُكير، عن أبيه، عن بُسْر بن سعيد، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما مِن أحدٍ يُؤمَّر على عشرة فصاعدًا، لا يُقسِطُ فيهم، إلّا جاء يومَ القيامة في الأصفادِ والأغلال" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ولسنا بمعذُورِين في ترك أحاديث مَخْرَمة بن بُكير أصلًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7009 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی کو بھی دس یا اس سے زیادہ افراد پر امیر بنایا جائے اور وہ ان کے درمیان انصاف نہ کرے، تو وہ قیامت کے دن بیڑیوں اور طوقوں میں جکڑا ہوا آئے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مخرَمہ بن بکیر کی احادیث کو چھوڑنے میں ہمارے پاس اصلاً کوئی عذر نہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7185
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل مخرمة بن بكير.» [ترقيم الرساله 7185] [ترقيم الشركة 7104] [ترقيم العلميه 7009]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل مخرمة بن بكير.
درجۂ حدیث: مخرمہ بن بکیر کی موجودگی کی وجہ سے اس کی سند 'قوی' ہے۔
وأخرجه أحمد 15 / (9573) من طريق سعيد المقبري وعجلان، عن أبي هريرة. ولفظه: "ما من أمير عشرة إلّا يؤتى به يوم القيامة مغلولًا، لا يفكُّه إلا العدلُ، أو يُوبِقه الجَوْر". وانظر تتمة تخريجه وطرقه هناك.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15/9573) نے سعید المقبری اور عجلان عن ابی ہریرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: حدیث کے الفاظ ہیں: "دس افراد کا جو بھی امیر ہو گا، اسے قیامت کے دن بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جائے گا، اسے صرف اس کا عدل ہی چھڑا سکے گا یا اس کا ظلم اسے تباہ کر دے گا"۔ اس کی مزید تفصیل اور طرق کے لیے وہیں (مسند احمد میں) مراجعت کریں۔
(2) انظر كلامه بإثر الحديث (722).
حوالہ / مصدر: ان کی کلام حدیث نمبر (722) کے بعد ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7185 سے ماخوذ ہے۔