حدیث نمبر: 7165
أخبرنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنّى ومحمد بن أيوب قالا: حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن مَيسَرة الأشجعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة في قوله ﷿: ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾: تجرُّونَهم بالسلاسِل فتُدخِلونَهم الإسلامَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! باب في ذِكرِ فضائل (3) التابعين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6989 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ کے متعلق فرماتے ہیں: (تم بہترین امت اس لیے ہو کہ) تم لوگوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لاتے ہو یہاں تک کہ انہیں اسلام میں داخل کر دیتے ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7165
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 7165] [ترقيم الشركة 7084] [ترقيم العلميه 6989]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري (4557) عن محمد بن يوسف، والنسائي (11005) من طريق أبي داود الحفري، كلاهما عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (4557) اور امام نسائی (11005) نے محمد بن یوسف اور ابوداؤد حفری کے طریق سے سفیان ثوری (سفیان بن سعید الثوری) کی سند سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی بخاری میں موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 13 / (8013)، والبخاري (3010)، وأبو داود (2677)، وابن حبان (134) من طريق محمد بن زياد، عن أبي هريرة مرفوعًا: "عَجِبَ اللهُ من قوم يَدخُلونَ الجنَّةَ في السَّلاسل".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8013)، بخاری (3010)، ابوداؤد (2677) اور ابن حبان (134) نے محمد بن زیاد از حضرت ابوہریرہ کی سند سے مرفوعاً روایت کیا ہے: "اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر (خوشی سے) تعجب فرماتا ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے"۔
قال ابن حبان شارحًا: والقصدُ في هذا الخبر السَّبيُ الذين يسبيهم المسلمون من دار الشرك مُكتَّفين في السلاسل يُقادون بها إلى دُور الإسلام حتى يُسلموا فيدخلوا الجنة.
نوٹ / توضیح: امام ابن حبان اس خبر کی شرح میں فرماتے ہیں: اس حدیث سے مراد وہ جنگی قیدی ہیں جنہیں مسلمان دارِ شرک سے قید کر کے زنجیروں میں جکڑ کر دارِ اسلام لاتے ہیں، پھر وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں اور (اسی سبب) جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔
(3) في (م) و (ص): فضل.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ص) میں یہاں "فضل" کا لفظ درج ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7165 سے ماخوذ ہے۔