حدیث نمبر: 7163
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني، بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن بَهْز بن حَكيم بن معاوية، عن أبيه، عن جدِّه: أنه سمع النبيِّ ﷺ في قول الله ﷿: ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران:110] قال: "أنتم تُتِمُّون سبعينَ أمةً، أنتم خيرُها وأكرمُها على الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع سعيدُ بن إياس الجُرَيري بهذا في روايته عن أبيه، وأتى بزيادة في المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6987 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

حاکم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [سورة آل عمران: 110] کے متعلق فرماتے ہوئے سنا: ”تم ستر امتیں پوری کرو گے، تم اللہ عزوجل کے نزدیک ان سب میں بہترین اور سب سے زیادہ معزز ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن.
تخریج حدیث «إسناده حسن.» [ترقيم الرساله 7163] [ترقيم الشركة 7082] [ترقيم العلميه 6987]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3001) عن عبد بن حميد، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن، وقد روى غير واحد هذا الحديث عن بهز بن حكيم نحو هذا، ولم يذكروا فيه: ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3001) نے عبد بن حمید از عبدالرزاق کی سند سے روایت کر کے "حسن" کہا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کئی راویوں نے اسے بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے مگر ان میں سے کسی نے اس آیت ﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ...﴾ کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه أحمد 33 / (20029) و (20049)، وابن ماجه (4287) و (4288) من طرق عن بهز بن حكيم به. لم يذكر أحد منهم الآية.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے بہز بن حکیم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے، اور ان میں سے بھی کسی نے آیت کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه ضمن حديث مطول أحمد (20011)، والنسائي (11367) من طريق عمرو بن دينار، عن حكيم بن معاوية، به.
تفصیلِ روایت: اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں امام احمد (20011) اور نسائی (11367) نے عمرو بن دینار از حکیم بن معاویہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اس کے بعد آنے والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7163 سے ماخوذ ہے۔