حدیث نمبر: 7162
أخبرني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا [سعيد بن] (1) منصور، حدثنا مَسلَمة بن عَلْقمة المازني، عن داود بن أبي هند، عن عامر، عن أبي هريرة قال: ثلاثٌ سمعتُهنَّ لبني تميم من رسول الله ﷺ لا أُبغِضُ تميمًا بعدَهنَّ أبدًا: كان على عائشةَ نذرُ محرَّرٍ من ولد إسماعيل، فسُبِيَ سَبْيٌ من بني العَنْبَر، فقال لعائشة: "إِنْ سَرَّكِ أن تَفِي بنَدْرِك، فأعتِقي محرَّرًا من هؤلاء"، فجعلَهم من ولد إسماعيلَ، وِجيءَ بنَعَمٍ من نَعَمِ صَدقةِ بني سعدٍ، فلمَّا رآها راعَهُ، فقال: "هذا نَعَمُ قومي"، فجعلَهم قومَه (2)، وقال: "هم أشدُّ الناسِ قتالًا في المَلاحِم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! في ذكر فضل (1) هذه الأُمةِ على سائر الأُمَم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6986 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بنو تمیم کے متعلق تین ایسی باتیں سنیں جن کے بعد میں کبھی ان سے بغض نہیں رکھوں گا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر تھی، تو بنو عنبر کے چند قیدی لائے گئے، آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اگر تم اپنی نذر پوری کرنا چاہتی ہو تو ان میں سے کسی کو آزاد کر دو“، چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اولادِ اسماعیل میں سے قرار دیا، اور (ایک بار) بنو سعد کے صدقے کے اونٹ لائے گئے، جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو وہ آپ ﷺ کو بہت بھلے لگے اور فرمایا: ”یہ میری قوم کے اونٹ ہیں“، پس آپ ﷺ نے انہیں اپنی قوم قرار دیا، اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”وہ فتنوں اور بڑی لڑائیوں (ملاحم) میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخت لڑنے والے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7162
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مسلمة بن علقمة المازني.» [ترقيم الرساله 7162] [ترقيم الشركة 7081] [ترقيم العلميه 6986]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ، وهذه السلسلة معروفة، تكرَّرت كثيرًا عند المصنف.
نوٹ / توضیح: قوسین کے درمیان موجود عبارت نسخوں سے ساقط تھی، یہ ایک معروف سلسلہِ سند ہے جو مصنف کے ہاں کثرت سے دہرایا گیا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: قومي، والمثبت من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان، وهو الموافق لما في المصادر.
فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں "قومی" ہے، مگر ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن قائم کیا ہے جو دیگر مصادر کے موافق ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مسلمة بن علقمة المازني.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور مسلمہ بن علقمہ المازنی کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه مختصرًا مسلم (2525) عن حامد بن عمر البكراوي، عن مسلمة بن علقمة المازني، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2525) میں حامد بن عمر البکراوی از مسلمہ بن علقمہ مازنی کی سند سے مختصراً اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 15 / (9068)، والبخاري (2543) و (4366)، ومسلم (2525)، وابن حبان (6808) من طريق أبي زرعة، عن أبي هريرة، قال: ما زلت أحبُّ بني تميم منذ ثلاثٍ سمعتُ من رسول الله ﷺ يقول فيهم، سمعتُه يقول: "هم أشدُّ أمتي على الدجال"، قال: وجاءت صدقاتهم، فقال رسول الله ﷺ: "هذه صدقات قومنا"، وكانت سبيّة منهم عند عائشة، فقال: "أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9068)، بخاری (2543، 4366)، مسلم (2525) اور ابن حبان نے ابوزرعہ از حضرت ابوہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ میں تین باتوں کی وجہ سے بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنیں: 1. "وہ میری امت میں دجال پر سب سے سخت ثابت ہوں گے"۔ 2. جب ان کے صدقات آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں"۔ 3. حضرت عائشہ کے پاس ان کی ایک قیدی خاتون تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہے"۔
(1) في (ز) و (ب): فضائل.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہاں لفظ "فضائل" درج ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7162 سے ماخوذ ہے۔