حدیث نمبر: 7122
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله قال: وأمُّ فَرُوةَ بنت أبي قُحافة أخت أبي بكر الصدِّيق عمَّةُ عائشة، وأمُّها هِند بنت نُقَيد (1) بن بُجَير بن عَبد (2) بن قُصَي، زوَّجها أبو بكرٍ الأشعثَ بنَ قيس، فولدت له محمدًا وإسحاقَ وحَبَّانة (3) وقَريبة، وعاشت بعد النبي ﷺ. ذكرُ أُمَيمة بنتِ رُقَيقة ﵂
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مصعب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام فروہ بنت ابی قحافہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہن اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پھوپھی ہیں، ان کی والدہ ہند بنت نقید تھیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا نکاح اشعث بن قیس سے کر دیا تھا، جن سے ان کے ہاں محمد، اسحاق، حبانہ اور قریبہ پیدا ہوئے، وہ نبی کریم ﷺ کے بعد بھی حیات رہیں۔
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7122
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7122] [ترقيم الشركة 7040]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ إلى: نفيل، والتصويب من "طبقات ابن سعد" 6/ 78 و 10/ 236، و "ثقات ابن حبان" 3/ 350، و "سير أعلام النبلاء" للذهبي 3/ 439، وغيرها.
فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں یہ نام "نفیل" تحریف (غلطی) ہو گیا ہے، جبکہ صحیح نام "نافل" ہے۔
حوالہ / مصدر: اس کی تصحیح "طبقات ابن سعد" 6/ 78 و 10/ 236، "ثقات ابن حبان" 3/ 350، اور علامہ ذہبی کی "سیر اعلام النبلاء" 3/ 439 وغیرہ سے ہوتی ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: عبيد، وليس في ولد قصي بن عُبيدٌ مصغرًا، إنما هو عَبْد، انظر "جمهرة الأنساب" لابن حزم ص 14 و 128، و "الاستيعاب" لابن عبد البر ص 959.
فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں یہاں "عُبید" (تصغیر کے ساتھ) تحریف ہوئی ہے، جبکہ قصی کی اولاد میں "عُبید" نام کا کوئی نہیں، بلکہ وہ "عَبْد" ہے۔
حوالہ / مصدر: دیکھیے ابن حزم کی "جمہرۃ انساب العرب" ص 14 و 128، اور ابن عبد البر کی "الاستیعاب" ص 959۔
(3) تحرَّف في النسخ إلى: حياة، والمثبت من "توضيح المشتبه" لابن ناصر الدين 3/ 50 و 7/ 208، ومثله في "طبقات ابن سعد" 6/ 78.
فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں "حیاۃ" تحریف ہو گیا ہے، جبکہ درست نام وہی ہے جو ہم نے متن میں ثابت کیا (یعنی حبہ/حبیبہ)۔
حوالہ / مصدر: جیسا کہ ابن ناصر الدین کی "توضیح المشتبہ" 3/ 50 و 7/ 208 اور "طبقات ابن سعد" 6/ 78 میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7122 سے ماخوذ ہے۔