المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
اللَّهُ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالُ باب: اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق إملاءً، حدثنا يوسف بن يعقوب، حدثنا أبو الرَّبيع الزَّهْراني، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "دَعَا اللهُ جبريلَ فأرسلَه إلى الجنة، فقال: انظُرْ إليها وما أَعددتُ فيها لأهلِها، فقال: وعِزَّتِكَ لا يسمعُ بها أحدٌ إلّا دخلها، فحُفَّتْ بالمَكارِه، قال: ارجِعْ إليها فانظُرْ إليها، فرجعَ، فقال: وعزَّتِكَ لقد خَشِيتُ أن لا يدخلَها أحدٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو بزيادة ألفاظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 71 - على شرط مسلمسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو پکارا اور انہیں جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: اس کی طرف دیکھو اور ان انعامات کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مکینوں کے لیے تیار کیے ہیں، انہوں نے (دیکھ کر) عرض کیا: (اے اللہ!) تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے بارے میں سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو جائے گا، پھر اللہ نے اسے ناگوار چیزوں (مشقتوں) سے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور دیکھو، وہ واپس آئے تو عرض کیا: تیری عزت کی قسم! اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے محمد بن عمرو کے واسطے سے زائد الفاظ کے ساتھ بھی اسے روایت کیا ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: محمد بن عمرو بن علقمہ لیثی کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی یوسف بن یعقوب سے مراد "ابن اسماعیل بن حماد بن زید القاضی" ہیں، اور ابوالربیع الزہرانی سے مراد "سلیمان بن داود العتکی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8861) عن سليمان بن داود الهاشمي، عن إسماعيل بن جعفر، بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند 14/(8861) میں سلیمان بن داود ہاشمی کے واسطے سے، انہوں نے اسماعیل بن جعفر سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کے بعد آنے والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
قوله: "فحُفَّت" أي: أُحيطت وحُجِبَت.
نوٹ / توضیح: قول "فحُفَّت" کا لغوی و فنی مطلب یہ ہے کہ اسے (کسی چیز سے) گھیر لیا گیا ہے یا اس کے گرد پردہ ڈال دیا گیا ہے۔