المستدرك على الصحيحين
أول كتاب الصلاة— نماز کا بیان
أَوْقَاتُ الصَّلَاةِ الْخَمْسُ باب: پانچ فرض نمازوں کے اوقات۔
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري وأبو محمد الحسن بن حَليم المروزيَّان بمَرْو قالا: حدّثنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، أخبرنا عَبْدان بن عثمان، حدّثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا الحسين بن علي بن الحسين، حدَّثني وَهْب بن كَيْسان، حدّثنا جابر بن عبد الله الأنصاري قال: جاء جبريل إلى النبيّ ﷺ حين زالت الشمسُ فقال: قم يا محمدُ فصلِّ الظُّهر، فقام فصلَّى الظهرَ حين زالت الشمس، ثم مَكَثَ حتى كان فَيْءُ الرجلِ مثلَه، فجاءه للعصر فقال: قم يا محمدُ فصلِّ العصر، فقام فصلَّى العصرَ، ثم مَكَثَ حتى غابت الشمس فقال: قم فصلِّ المغربَ، فقام فصلَّاها حين غابت سواءً، ثم مَكَثَ حتى ذهب الشَّفَق، فجاءه فقال: قم فصلِّ العشاءَ، فقام فصلَّاها، ثم جاءه حين صَدَعَ الفجرُ بالصبح، فقال: قم يا محمدُ فصلِّ، فقام فصلَّى الصبحَ، ثم جاءه من الغد حين كان فَيْءُ الرجل مثلَه، فقال: قم يا محمدُ فصلِّ الظهر، فقام فصلَّى الظهر، ثم جاءه حين كان فَيْءُ الرجل مِثلَيه، فقال: قم يا محمدُ فصلِّ العصر، فقام فصلَّى العصر، ثم جاءه المغربَ حين غابت الشمس وقتًا واحدًا لم يَزُل عنه، فقال: قم فصلِّ، فصلَّى المغربَ، ثم جاءه العِشاءَ حين ذهب ثلثُ الليل الأول، فقال: قم فصلِّ، فصلَّى العشاءَ، ثم جاءه الصبحَ حين أَسفَرَ جدًّا، فقال: قم فصلِّ الصبح، ثم قال: ما بين هذَينِ كلَّه وقتٌ (1).
هذا حديث صحيح مشهور من حديث عبد الله بن المبارَك، والشيخان لم يُخرجاه لعِلَّة حديث الحسين بن علي الأصغر، وقد رَوَى [عنه] عبد الرحمن بن أبي المَوَال وغيره.
سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سورج ڈھلا تو جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد! اٹھئے اور ظہر کی نماز پڑھیے،“ تو آپ ﷺ نے زوال کے وقت ظہر پڑھی۔ پھر جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا تو عصر کے لیے آئے اور کہا: ”اٹھئے اور عصر پڑھیے،“ تو آپ ﷺ نے عصر پڑھی۔ پھر جب سورج غروب ہوا تو کہا: ”اٹھئے اور مغرب پڑھیے،“ تو آپ ﷺ نے مغرب پڑھی۔ پھر جب شفق (سرخی) غائب ہوئی تو کہا: ”عشاء پڑھیے،“ تو آپ ﷺ نے عشاء پڑھی۔ پھر جب صبح صادق ہوئی تو کہا: ”صبح کی نماز پڑھیے،“ تو آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی۔ اگلے دن پھر جبرائیل آئے اور ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل تھا، عصر اس وقت جب سایہ دو مثل تھا، مغرب اسی وقت جب سورج غروب ہوا، عشاء جب تہائی رات گزر گئی اور فجر جب خوب روشنی ہو گئی۔ پھر جبرائیل نے کہا: ”ان دو وقتوں کے درمیان کا سارا وقت نماز کا وقت ہے۔“
یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے، لیکن شیخین نے حسین بن علی اصغر کی وجہ سے اسے ترک کیا ہے حالانکہ وہ ثقہ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14538)، والترمذيّ (150)، والنسائي (1520)، وابن حبان (1472) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 22/ (14538)، ترمذی (150)، نسائی (1520) اور ابن حبان (1472) نے مختلف طرق سے عبد اللہ بن المبارک کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔