المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أُمِّ هَانِئٍ فَاخِتَةَ بِنْتِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنَةِ عَمِّ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَأُخْتِ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ باب: سیدہ اُمِّ ہانی فاختہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کا بیان، جو رسول اللہ ﷺ کی چچا زاد بہن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں
حدیث نمبر: 7042
أخبرني محمد بن المؤمل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا أحمد بن حنبل قال: أم هانئ بنت أبي طالب اسمها: هند، وأمها فاطمة بنت أسد بن هاشم. هكذا ذكر الإمام أبو عبد الله ﵁ اسم أم هانئ، وقد تواترت الأخبار بأنَّ اسمها فاختةُ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کا نام ہند ہے اور ان کی والدہ سیدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم رضی اللہ عنہا ہیں۔ امام ابو عبداللہ (احمد بن حنبل) رضی اللہ عنہ نے ام ہانی کا یہی نام اسی طرح ذکر کیا ہے، جبکہ کثرت سے منقول متواتر روایات کے مطابق ان کا نام «فاختة» ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) علق الذهبي في "التلخيص" على المصنف، فقال: أين التواتر؟! قلنا: الأنسب أن يقال: إنَّ الأشهر في اسمها فاختة، وقد أشار إلى ذلك الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 8/ 317.
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "التلخیص" میں مصنف پر تعاقب کرتے ہوئے کہا: "تواتر کہاں ہے؟!" (یعنی اس بات پر تواتر کا دعویٰ درست نہیں)۔ ہم کہتے ہیں: مناسب یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ ان کے ناموں میں سب سے مشہور نام "فاختہ" ہے، اور اسی طرف حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" 8/ 317 میں اشارہ کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "التلخیص" میں مصنف پر تعاقب کرتے ہوئے کہا: "تواتر کہاں ہے؟!" (یعنی اس بات پر تواتر کا دعویٰ درست نہیں)۔ ہم کہتے ہیں: مناسب یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ ان کے ناموں میں سب سے مشہور نام "فاختہ" ہے، اور اسی طرف حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" 8/ 317 میں اشارہ کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7042 سے ماخوذ ہے۔