حدیث نمبر: 7038
حدثنا أبو عبد الله الأصفهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: وصفية بنت عبد المطلب بن هاشم وأمها هالة بنت وهيب بن عبد مناف بن زُهرة بن كلاب، وهي أختُ حمزة بن عبد المطلب لأمه، كان تزوَّجها في الجاهلية الحارثُ بن حرب بن أمية بن عبد شمس، فولدت له صَفيًّا (1)، ثم خَلَفَ عليها العوام بن خُوَيلد بن أسد، فولدت له الزبير والسائب وعبد الكعبة، وأسلمت وبايعت رسول الله ﷺ، وهاجرت إلى المدينة، وعاشت بعده إلى خلافة عمر بن الخطاب، ورَوَت عن رسول الله ﷺ.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر سے مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم کی والدہ ہالہ بنت وہیب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب تھیں، وہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کی مادری بہن تھیں، جاہلیت میں ان کا نکاح حارث بن حرب بن امیہ بن عبدشمس سے ہوا تھا جن سے ان کا بیٹا صفی پیدا ہوا، پھر ان کے بعد عوام بن خویلد بن اسد ان کے نکاح میں آئے جن سے ان کے ہاں زبیر، سائب اور عبدالکعبہ پیدا ہوئے، انہوں نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور مدینہ ہجرت کی، وہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہیں اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث روایت کی ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7038
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7038] [ترقيم الشركة 6959]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) الخبر في طبقات ابن سعد 10/ 41، وفيه: فولدت له صفيًا رجلًا، يعني ذكرًا. وتحرّف "صفيًا" في (ص) إلى: صبيًا.
حوالہ / مصدر: یہ خبر طبقات ابن سعد 10/ 41 میں ہے، اور اس میں الفاظ ہیں: "فولدت له صفيًا رجلًا" (اس کے ہاں صفی پیدا ہوا جو مرد تھا)۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) میں لفظ "صفیًا" تحریف ہو کر "صبیًا" (بچہ) بن گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7038 سے ماخوذ ہے۔