المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُخْتُ حَمْزَةَ وَأُمُّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ باب: سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بہن اور سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں
حدثنا أبو عبد الله الأصفهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: وصفية بنت عبد المطلب بن هاشم وأمها هالة بنت وهيب بن عبد مناف بن زُهرة بن كلاب، وهي أختُ حمزة بن عبد المطلب لأمه، كان تزوَّجها في الجاهلية الحارثُ بن حرب بن أمية بن عبد شمس، فولدت له صَفيًّا (1)، ثم خَلَفَ عليها العوام بن خُوَيلد بن أسد، فولدت له الزبير والسائب وعبد الكعبة، وأسلمت وبايعت رسول الله ﷺ، وهاجرت إلى المدينة، وعاشت بعده إلى خلافة عمر بن الخطاب، ورَوَت عن رسول الله ﷺ.
محمد بن عمر سے مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم کی والدہ ہالہ بنت وہیب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب تھیں، وہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کی مادری بہن تھیں، جاہلیت میں ان کا نکاح حارث بن حرب بن امیہ بن عبدشمس سے ہوا تھا جن سے ان کا بیٹا صفی پیدا ہوا، پھر ان کے بعد عوام بن خویلد بن اسد ان کے نکاح میں آئے جن سے ان کے ہاں زبیر، سائب اور عبدالکعبہ پیدا ہوئے، انہوں نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور مدینہ ہجرت کی، وہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہیں اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث روایت کی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: یہ خبر طبقات ابن سعد 10/ 41 میں ہے، اور اس میں الفاظ ہیں: "فولدت له صفيًا رجلًا" (اس کے ہاں صفی پیدا ہوا جو مرد تھا)۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) میں لفظ "صفیًا" تحریف ہو کر "صبیًا" (بچہ) بن گیا ہے۔