حدیث نمبر: 697
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حدّثنا إسماعيل - وهو ابن عُليَّة - عن محمد بن إسحاق قال: حدَّثني يزيد بن أبي حَبِيب، عن مَرثَد بن عبد الله اليَزَني قال: قَدِمَ علينا أبو أيوب غازيًا وعُقبة بن عامر يومئذٍ على مصر، فأَخَّر المغرب، فقام إلينا أبو أيوب فقال: ما هذه الصلاةُ يا عقبة؟ فقال: شُغِلْنا، فقال: أما والله ما آسَى إلّا أن يَظُنَّ الناسُ أنك رأيتَ رسولَ الله ﷺ يَصنَعُ هكذا، سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا تزالُ أمَّتي بخيرٍ - أو على الفِطْرة - ما لم يُؤخِّروا المغربَ حتى تَشتبِكَ النجومُ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح الإسناد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 685 - على شرط مسلم وله شاهد صحيح
حافظ طلحہ بابر

مرثد بن عبداللہ یزنی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مجاہد کی حیثیت سے آئے جبکہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مصر کے گورنر تھے، انہوں نے مغرب کی نماز میں تاخیر کر دی، تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے عقبہ! یہ کیسی نماز ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کام میں مصروف ہو گئے تھے،“ ابو ایوب نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے صرف اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: میری امت اس وقت تک خیر (یا فطرت) پر رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کر دے کہ ستارے گتھ جائیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب الصلاة / حدیث: 697
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 697] [ترقيم الشركة 690] [ترقيم العلميه 685]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهو في "مسند أحمد" 38/ (23534).

وأخرجه أحمد 28/ (17329) و 38/ (23535) و (23582)، وأبو داود (418) من طرق عن محمد بن إسحاق، به.

درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی موجودگی کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت 'مسند احمد' 38/ (23534) میں موجود ہے۔ نیز امام احمد 28/ (17329)، 38/ (23535، 23582) اور امام ابو داود (418) نے محمد بن اسحاق کے مختلف طرق سے اسے روایت کیا ہے۔
قوله: "تشتبك النجوم" هو أن يظهر الكثير منها فيختلط بعضها ببعض من الكثرة، وهذا يدلّ على استحباب التعجيل، قاله السندي.
اہم نکتہ: حدیث کے الفاظ "ستاروں کا گتھ جانا" (تشتبک النجوم) سے مراد ستاروں کا اتنی کثرت سے ظاہر ہونا ہے کہ وہ کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے میں ملے ہوئے محسوس ہوں۔ علامہ سندی کے مطابق یہ مغرب کی نماز جلدی پڑھنے کے مستحب ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 697 سے ماخوذ ہے۔