المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
رُؤْيَا جُوَيْرِيَةَ سُقُوطَ الْقَمَرِ فِي حِجْرِهَا باب: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ چاند ان کی گود میں آ گرا
حدیث نمبر: 6952
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهانيّ، حدّثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدّثنا سعيد بن كثير بن عُفير وسعيدُ بن أبي مريم وأبو صالح، قالوا: حدّثنا الليث بن سعد، عن ابن شِهاب، أنَّ عبيد بن السَّبَّاق أخبره عن جُوَيرية بنت الحارث: أنَّ رسولَ الله ﷺ دخل عليها، فقال: "هل مِن طعامٍ؟ " قالت: لا والله يا رسول الله، ما عندنا طعامٌ إلَّا عظمٌ من شاةٍ أُعطيَتْه مولاتي من الصدقة، فقال: "قَرِّبيها، فقد بَلَغَت مَحِلَّها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ أمِّ المؤمنين صَفيَّةَ بنت حُيَي ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6785 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”کیا کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں سوائے بکری کی ایک ہڈی کے جو میری لونڈی کو صدقے میں دی گئی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قریب لے آؤ، کیونکہ یہ اب اپنے حلال ٹھکانے تک پہنچ گئی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27424)، ومسلم (1073)، وابن حبان (5117) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (45/ 27424)، مسلم (1073) اور ابن حبان (5117) نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: لہٰذا امام حاکم کا (اسے مستدرک میں لا کر) استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه أحمد (45/ 27420)، ومسلم (1073)، وابن حبان (5118) من طريق سفيان بن عيينة، عن الزهريّ، به.
حوالہ / مصدر: نیز اسے احمد (45/ 27420)، مسلم (1073) اور ابن حبان (5118) نے سفیان بن عیینہ عن الزہری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وفسره الحميدي في "مسنده" (319) بقوله: يعني ليس هي الآن صدقة.
نوٹ / توضیح: حمیدی نے اپنی "مسند" (319) میں اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: یعنی وہ اب صدقہ (زکوٰۃ کا مال) نہیں ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27424)، ومسلم (1073)، وابن حبان (5117) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (45/ 27424)، مسلم (1073) اور ابن حبان (5117) نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: لہٰذا امام حاکم کا (اسے مستدرک میں لا کر) استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه أحمد (45/ 27420)، ومسلم (1073)، وابن حبان (5118) من طريق سفيان بن عيينة، عن الزهريّ، به.
حوالہ / مصدر: نیز اسے احمد (45/ 27420)، مسلم (1073) اور ابن حبان (5118) نے سفیان بن عیینہ عن الزہری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وفسره الحميدي في "مسنده" (319) بقوله: يعني ليس هي الآن صدقة.
نوٹ / توضیح: حمیدی نے اپنی "مسند" (319) میں اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: یعنی وہ اب صدقہ (زکوٰۃ کا مال) نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6952 سے ماخوذ ہے۔