المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
رُؤْيَا جُوَيْرِيَةَ سُقُوطَ الْقَمَرِ فِي حِجْرِهَا باب: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ چاند ان کی گود میں آ گرا
حدیث نمبر: 6949
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق قال: وجُويرية بنت الحارث كان اسمُها بَرَّةَ بنت الحارث بن أبي ضِرار بن حبيب بن عائذ بن مالك بن جَذيمة من خُزَاعة، كانت عند ابن عمٍّ لها يقال له: مُسافِع بن صفوان بن ذي الشُّفْرَينِ (4).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ بنت حارث کا نام پہلے ”برہ“ تھا، وہ حارث بن ابی ضرار کی صاحبزادی تھیں اور قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو مصطلق سے تعلق رکھتی تھیں، وہ اپنے چچا زاد مسافع بن صفوان بن ذی الشفرین کے نکاح میں تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) كذا في النسخ الخطية: الشفرين، بالتثنية، ونراه وهمًا، والذي في "طبقات ابن سعد" 10/ 113: مسافع بن صفوان ذي الشفر بن سرح بن مالك بن جذيمة، وفي "المحبر" لمحمد بن حبيب ص 89، و "أنساب الأشراف" للبلاذري 1/ 441، و "إمتاع الأسماع" للمقريزي 6/ 83: مسافع بن صفوان بن ذي الشفر، وزاد ابن حبيب: ابن أبي سرح وعليه يكون ما في "طبقات ابن سعد" تحريفًا. وفي "نزهة الألقاب" لابن حجر: ذو الشفرة.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تثنیہ کے صیغے کے ساتھ "الشفرین" ہے، جو ہماری نظر میں "وہم" (غلطی) ہے۔ "طبقات ابن سعد" (10/ 113) میں "مسافع بن صفوان ذی الشفر..." ہے، جبکہ "المحبر" (ص 89)، "انساب الاشراف" (1/ 441) اور "امتاع الاسماع" (6/ 83) میں "مسافع بن صفوان بن ذی الشفر" ہے۔ ابن حبیب نے "ابن ابی سرح" کا اضافہ بھی کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ "طبقات ابن سعد" والا متن محرف ہے۔ ابن حجر کی "نزہۃ الالقاب" میں "ذو الشفرۃ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تثنیہ کے صیغے کے ساتھ "الشفرین" ہے، جو ہماری نظر میں "وہم" (غلطی) ہے۔ "طبقات ابن سعد" (10/ 113) میں "مسافع بن صفوان ذی الشفر..." ہے، جبکہ "المحبر" (ص 89)، "انساب الاشراف" (1/ 441) اور "امتاع الاسماع" (6/ 83) میں "مسافع بن صفوان بن ذی الشفر" ہے۔ ابن حبیب نے "ابن ابی سرح" کا اضافہ بھی کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ "طبقات ابن سعد" والا متن محرف ہے۔ ابن حجر کی "نزہۃ الالقاب" میں "ذو الشفرۃ" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6949 سے ماخوذ ہے۔