المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
رُؤْيَا جُوَيْرِيَةَ سُقُوطَ الْقَمَرِ فِي حِجْرِهَا باب: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ چاند ان کی گود میں آ گرا
قال ابن عمر: وحدثني حزام بن هشام، عن أبيه قال: قالت جُويرية بنت الحارث: رأيتُ قبل قُدومِ النبيِّ ﷺ بثلاثِ ليالٍ كأنَّ (2) القمر أقبلَ يسيرُ من يثربَ حتى وقع في حَجْري، فكرهتُ أن أخبرَ بها أحدًا من الناس، حتى قَدِمَ رسولُ الله ﷺ، فلما سُبِينا رجوتُ الرؤيا، فلما أعتقني وتزوّجني، والله ما كلَّمتُه في قومي حتى كان المسلمون هم الذين أرسَلُوهم، وما شَعَرتُ [إلَّا] بجارية من بنات عمِّي تُخبِرني الخبرَ، فَحَمِدتُ الله ﷿ (3).
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے تین رات پہلے میں نے خواب دیکھا کہ گویا چاند یثرب سے چل کر آیا اور میری گود میں آ گرا، میں نے یہ بات کسی کو بتانا پسند نہ کیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، جب ہم قید ہوئے تو مجھے اپنے خواب کی تعبیر کی امید ہوئی، پھر جب آپ ﷺ نے مجھے آزاد کر کے مجھ سے نکاح فرما لیا تو اللہ کی قسم! میں نے اپنی قوم کے بارے میں آپ ﷺ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ مسلمانوں نے خود ہی انہیں رہا کر دیا، مجھے تو اس وقت پتا چلا جب میری ایک چچا زاد لڑکی نے آ کر مجھے یہ خبر دی، جس پر میں نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (سوائے نسخہ 'ب' کے) لفظ "کأنہ" ہے، جبکہ 'ب' میں "کأنھن" ہے۔ ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن قائم کیا ہے جو تخریج کے مصادر کے موافق ہے۔
(3) من فوق الواقديّ لا بأس بهم.
درجۂ حدیث: واقدی سے اوپر والے راوی "لا بأس بھم" (قابل قبول) ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 4/ 50 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (4/ 50) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔