المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - باب: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
حدّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبيّ، حدّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: كانت زينبُ بنت جحش بن رِئاب بن يَعمَر بن صَبِرة بن مُرَّة بن كَبير (3) بن غَنْم بن دُودان بن أسد بن خُزيمة، وأمُّها أُميمة بنت عبد المطَّلب بن هاشم، واسمُه بن عمرو بن عبد مَناف، وكانت زينبُ عند زيد بن حارثة ففارقَها، فتزوَّجها رسولُ الله ﷺ، وفيها نزلت: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَحْتَكَهَا﴾ [الأحزاب: 37]، قال: فكانت تفخَرُ على أزواج النبيِّ ﷺ تقولُ: زوَّجني اللهُ مِن رسولِه، وزوجَكُنُّ آباؤكنَّ وأقاربُكنَّ (1). وحَمْنةُ بنت جَحْش هي المُستَحاضة، كانت تحتَ عبد الرحمن بن عَوف، وهي أختُ زينب بنت جَحْش.
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدہ زینب بنت جحش بن رئاب (قبیلہ اسد سے) تھیں اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم (نبی کریم ﷺ کی پھوپھی) تھیں۔ سیدہ زینب پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر ان سے علیحدگی ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا، اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ ”پھر جب زید نے ان سے اپنی غرض پوری کر لی تو ہم نے ان کا نکاح آپ سے کر دیا۔“ [سورة الأحزاب: 37] وہ دیگر ازواج مطہرات کے سامنے فخر سے فرماتی تھیں: ”تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا جبکہ میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے اپنے رسول سے فرمایا۔“ اور حمنہ بنت جحش سیدہ زینب کی بہن تھیں جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور انہیں استحاضہ کا عارضہ تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "کثیر" کا لفظ ہے، جبکہ باقی نسخوں سے یہ ساقط ہو گیا تھا۔ اس کی درستی ابن ماکولا کی "الاکمال" (7/ 125) سے کی گئی ہے۔
(1) أخرج البخاريّ معناه من حديث أنس برقم (7420). وانظر الخبر الآتي برقم (6940).
حوالہ / مصدر: امام بخاری نے حدیث نمبر (7420) میں حضرت انس سے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ آئندہ آنے والی خبر نمبر (6940) بھی دیکھیں۔