المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
هِجْرَةُ أُمِّ سَلَمَةَ إِلَى الْحَبَشَةِ وَإِلَى الْمَدِينَةِ باب: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيِه، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: كانت أمُّ سلمة اسمُها رَمَلَةُ، وهي أولُ ظَعينةٍ دخلت المدينةَ مهاجرةً، وكانت قبل النَّبِيّ ﷺ عند أبي سلمة عبد الله بن عبد الأسد بن هلال بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، وهو أولُ من هاجر إلى أرض الحبشة، وشَهِدَ بدرًا، وتُوفِّي على عهد رسولِ الله ﷺ، فوَلَدَت لأبي سلمة: سلمةَ وعمرَ ودُرَّةَ وزينبَ، أمُّهم أمُّ سلمة زوج النَّبِيّ ﷺ، فخَلَفَ عليها النَّبِيُّ ﷺ بعد أبي سلمة، وقد روى ابنُها عمرُ بن أبي سلمة عن النَّبِيِّ ﷺ.
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ تھا، اور وہ پہلی خاتون تھیں جو ہجرت کر کے اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ میں داخل ہوئیں، وہ نبی کریم ﷺ سے پہلے ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کے نکاح میں تھیں، وہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے پہلے شخص تھے اور انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی، ان کی وفات رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ہوئی، ان سے ابوسلمہ کے ہاں سلمہ، عمر، درہ اور زینب پیدا ہوئے، ان سب کی والدہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں، ابوسلمہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا، اور ان کے بیٹے عمر بن ابی سلمہ نے نبی کریم ﷺ سے احادیث روایت کی ہیں۔