المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
هِجْرَةُ أُمِّ سَلَمَةَ إِلَى الْحَبَشَةِ وَإِلَى الْمَدِينَةِ باب: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت
فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن الأعمش، عن شَقيق، عن أمِّ سلمة قالت: قال رسول الله ﷺ: "إذا حضرتُم الميتَ أو المريضَ فقولوا خيرًا، فإنَّ الملائكة يُؤمِّنون على ما تقولون"، فلما تُوفِّي أبو سلمة أتيتُ النَّبِيّ ﷺ فقلتُ: كيف أقولُ؟ قال: "قولي: اللهمَّ اغفر لنا وله، وأعقِبْني منه عُقبى صالحةً"، فقلتُها، فأعقبَني الله محمدًا ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6758 - على شرط البخاري ومسلم إن لم يكونا أخرجاهسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی میت یا مریض کے پاس حاضر ہو تو خیر (بھلائی) کی بات کہو، کیونکہ فرشتے تمہاری کہی ہوئی بات پر آمین کہتے ہیں۔“ چنانچہ جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دعا پڑھو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى صَالِحَةً» ”اے اللہ! ہمیں اور اسے بخش دے اور مجھے اس کے بدلے میں بہتر نعم البدل عطا فرما۔““ میں نے یہ دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے (ابوسلمہ کے بدلے) محمد ﷺ (کی رفاقت) کی صورت میں بہترین نعم البدل عطا فرما دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں اور شقیق سے مراد ابن سلمہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 44/ (26497) و (26608) و (26739)، ومسلم (919)، وأبو داود (3115)، وابن ماجه (1447)، والترمذي (977)، والنسائي (1964) و (10841)، وابن حبان (3005) من طرق عن الأعمش، به. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26497، 26608، 26739)، مسلم (919)، ابو داود (3115)، ابن ماجہ (1447)، ترمذی (977)، نسائی (1964، 10841) اور ابن حبان (3005) نے اعمش کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ "حسن صحیح" ہے۔
وفي الباب عن شداد بن أوس سلف برقم (1302).
نوٹ / توضیح: اس باب میں شداد بن اوس سے بھی روایت ہے جو نمبر (1302) پر گزر چکی ہے۔