حدیث نمبر: 6799
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم ابن إسحاق الزُّهْري، حدثنا عُبيد الله (1) بن موسى وأبو غسان، قالا: حدثنا الحسن ابن صالح، عن السُّدِّي، عن عَدي بن ثابت، عن البراء بن عازب قال: لقيتُ خالي ومعه رايةٌ، فقلتُ: أين تريدُ؟ فقال: أرسلني رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ نكَحَ امرأةَ أبيه من بعدِه، أضربُ عُنقَه، وآخذُ مالَه (2). ذكرُ عُوَيم بن ساعدة ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6654 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے ماموں (سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ) سے ملا جبکہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی ماں) سے نکاح کر لیا ہے، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال ضبط کر لوں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6799
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، سلف الكلام عليه مفصلًا برقم (2811).» [ترقيم الرساله 6799] [ترقيم الشركة 6719] [ترقيم العلميه 6654]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبد اللہ" ہو گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، سلف الكلام عليه مفصلًا برقم (2811).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر مفصل بحث حدیث نمبر (2811) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6799 سے ماخوذ ہے۔