حدیث نمبر: 6791
حدثنا أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله ابن صالح، حدثني الليث، حدثني يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم ابن الحارث، عن سعيد بن الصَّلْت، عن سهيل ابن بيضاءَ قال: بينما رسولُ الله ﷺ وسهيلُ ابن بيضاءَ رديفُ رسولِ الله ﷺ معه على ناقته، قال رسولُ الله ﷺ: "يا سُهيلَ ابنَ بيضاء"، ورفع صوتَه مرتين أو ثلاثًا، كلُّ ذلك يجيبُه سهيلٌ، فسمع الناسُ صوتَ رسولِ الله ﷺ فعرفوا أنه يريدُهم، فحُبسَ من كان بين يديه، ولَحِقَه من كان خلفَه، حتى إذا اجتمعوا قال رسول الله ﷺ: "مَن شَهِدَ أن لا إله إلَّا اللهُ، حرَّمه الله على النار، وأوجَبَ له الجنةَ" (1). ذكرُ عِيَاض بن زُهير ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6646 - سنده جيد فيه إرسال
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی اونٹنی پر پیچھے سوار تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے آواز بلند کرتے ہوئے دو یا تین مرتبہ پکارا: ”اے سہیل بن بیضاء!“ اور ہر بار سہیل نے آپ ﷺ کو جواب دیا، لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی تو وہ جان گئے کہ آپ ﷺ ان سے کچھ فرمانا چاہتے ہیں، چنانچہ جو آگے تھے وہ رک گئے اور جو پیچھے تھے وہ ساتھ آ ملے، یہاں تک کہ جب سب جمع ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ نے اس پر آگ حرام کر دی اور اس کے لیے جنت واجب کر دی۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6791
درجۂ حدیث محدثین: مرفوعه صحيح لغيره
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد بن الصلت لم يدرك سهيل ابن بيضاء، لأنَّ سهيلًا توفي ورسولُ الله ﷺ حيٌّ، وقد ترجم له البخاري في "التاريخ الكبير" 3/ 483، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 4/ 34، وقالا: حديثه عن سهيل ابن بيضاء مرسل، ولم يذكرا فيه جرحًا ...» [ترقيم الرساله 6791] [ترقيم الشركة 6711] [ترقيم العلميه 6646]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه؛ سعيد بن الصلت لم يدرك سهيل ابن بيضاء، لأنَّ سهيلًا توفي ورسولُ الله ﷺ حيٌّ، وقد ترجم له البخاري في "التاريخ الكبير" 3/ 483، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 4/ 34، وقالا: حديثه عن سهيل ابن بيضاء مرسل، ولم يذكرا فيه جرحًا ولا تعديلًا، وذكره ابن حبان في "الثقات". وعبد الله بن صالح -وإن كان فيه كلام- متابع. وقال الذهبي: سنده جيد فيه إرسال.
درجۂ حدیث: اس کا مرفوع حصہ "صحیح لغیرہ" ہے، لیکن یہ مخصوص سند انقطاع (راوی کے درمیان سے گرنے) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سعید بن الصلت کا سہیل ابن بیضاء سے سماع ثابت نہیں کیونکہ سہیل کی وفات حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی ہو گئی تھی۔ امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 3/ 483 اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" 4/ 34 میں صراحت کی ہے کہ سعید کی سہیل سے روایت "مرسل" ہے۔ سعید کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل مذکور نہیں، تاہم ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ عبد اللہ بن صالح اگرچہ کلام سے خالی نہیں مگر یہاں وہ متابع کے طور پر ہیں۔ امام ذہبی نے فرمایا کہ سند جید ہے مگر اس میں ارسال ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (15738) من طريق بكر بن مضر، وأحمد (15739) و (15840)، وابن حبان (199) من طريق حيوة بن شريح، كلاهما عن يزيد بن الهاد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 25/ (15738) میں بکر بن مضر کے طریق سے، اور امام احمد نے (15739، 15840) اور ابن حبان نے (199) میں حیوہ بن شریح کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں یزید بن الہاد کی اسی سند سے نقل کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد (15839) من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، عن يزيد بن الهاد، عن محمد ابن إبراهيم بن الحارث، عن سهيل ابن بيضاء. ليس فيه سعيد بن الصلت.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (15839) میں ابراہیم بن سعد الزہری عن یزید بن الہاد عن محمد بن ابراہیم بن الحارث عن سہیل ابن بیضاء کی سند سے روایت کیا ہے، اور اس طریق میں سعید بن الصلت کا واسطہ نہیں ہے۔
وفي الباب عن غير واحد من الصحابة، منهم أنس عند البخاري (128)، ومسلم (32)، وعتبان ابن مالك عند البخاري (425) ومسلم (33)، وابن مسعود عند مسلم (92).
متابعات و شواہد: اس باب میں دیگر کئی صحابہ سے روایات مروی ہیں، جن میں حضرت انس (بخاری 128، مسلم 32)، عتبان بن مالک (بخاری 425، مسلم 33) اور ابن مسعود (مسلم 92) رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
وانظر حديث البطاقة السالف برقم (9)، وحديث أنس السالف برقم (235)، وحديث معاذ السالف برقم (1315).
نوٹ / توضیح: اس موضوع پر سابقہ حدیثِ بطاقہ (نمبر 9)، حدیثِ انس (نمبر 235) اور حدیثِ معاذ (نمبر 1315) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6791 سے ماخوذ ہے۔